ٹھٹھہ کے قریب زئرین کی کشتیاں ڈوب گئیں‘ 25جاں بحق‘ 100سے زائد لاپتا

152
ٹھٹھہ: کشتی حادثے میں جاں بحق افراد کی میتیں اسپتال منتقل کی جارہی ہیں
ٹھٹھہ: کشتی حادثے میں جاں بحق افراد کی میتیں اسپتال منتقل کی جارہی ہیں

ٹھٹھہ،کراچی(نمائندہ جسارت +مانیٹرنگ ڈ یسک )ٹھٹھہ کے قریب سمندر میں زائرین کی2کشتیاں الٹنے سے خواتین و بچوں سمیت 25 افراد جاں بحق،100 سے زائد لاپتا،47 کوبچا لیا گیا، مزید کی تلاش جاری، دونوں کشتیوں میں 180سے زائدافراد سوار تھے، زائرین پیر پٹھورو کے مزار پر جارہے تھے،لاشوں کو شیخ زید اور جناح اسپتال کراچی منتقل کردیا گیا، امدادی ٹیمیں 4گھنٹے تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچیں۔تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ کے علاقے میرپور ساکرو کے ساحلی گاؤں مو ہارا کے قریب سمندر میں زائرین کی 2 کشتیاں تیز ہواؤں اورگنجائش سے زائد لوگوں کے سوار ہونے کے باعث آپس میں ٹکرانے کے بعد الٹ گئیں۔ امدادی حکام اورپولیس کے مطابق ڈوبنے والی کشتیوں میں خواتین اور بچوں سمیت 180 سے زائد زائرین سوار تھے جو روحانی بزرگ پیر پٹھورو کے مزار پر حاضری اور علاقائی میلے مینھ بھٹائی میں شرکت کے لیے جارہے تھے ۔ڈوبنے والوں میں سے25 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں،47 کو زندہ بچا لیا گیا ہے جب کہ مزید لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے،لاشوں کو میر پور ساکرو کے شیخ زید اسپتال منتقل کردیا کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ ناصر بیگ کا کہنا تھا کہ بد قسمت کشتیوں میں خواتین اور بچے بھی سوار تھے جوپیر پٹھوروکے مزار پر حاضری کے لیے جارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشتی میں گنجائش سے زائد افراد سوار تھے جس کی وجہ سے کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔این جی او پاک فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کشتی جیٹی پر اپنا توازن کھو جانے کی وجہ سے الٹ گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر حیدر آباد کو امدادی کام تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اندھیرا ہونے سے پہلے امدادی کام مکمل کیا جائے۔ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک بحریہ کی امدادی ٹیمیں کارروائی میں حصہ لینے کے لیے ٹھٹھہ پہنچیں،امدادی ٹیموں میں پاک بحریہ کے غوطہ خور،میڈیکل اسٹاف سمیت چھوٹی امدادی کشتیاں بھی بھیجی گئیں جنہوں نے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔نیوی اور امدادی اداروں کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں تاہم اندھیرا ہونے پر امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حادثے کے بعد ٹھٹھہ اور قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔کئی بچ جانے والوں کو جناح اسپتال کراچی بھی منتقل کیا گیا۔رات گئے بچے سمیت 2 افراد کی میمن گوٹھ کے قبرستان میں تدفین کر دی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ