حکومت مخالف محاذ سرگرم‘ قادری زرداری اہم ملاقات‘ عمران نے بھی تحریک کی حمایت کردی

85
لاہور: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور طاہر القادری مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں
لاہور: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور طاہر القادری مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

لاہور/اسلام آباد (نمائند گان جسارت) حکومت مخالف محاذ سرگرم، جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر آصف زرداری ن لیگ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے، اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ منہاج القران سیکرٹریٹ پہنچ گئے، طاہر القادری سے ملاقات، سابق صدر کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے خاندانوں اور عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان جبکہ عمران خان نے بھی احتجاجی تحریک میں طاہر القادری کی حمایت کا اعلان کردیا۔سابق صدر آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ پہنچا۔ وفد میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، قمرزمان کائرہ اور ڈاکٹر قیوم سومرو شامل تھے۔ دونوں جماعتوں کے چوٹی کے رہنما اجلاس میں شریک ہوئے۔ عوامی تحریک کے وفد کی قیادت ڈاکٹر طاہر القادری نے کی۔ ان کے ساتھ خرم نواز گنڈا پور اور ڈاکٹر حسن محی الدین بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد قاتل اور منصوبہ ساز ایک بار پھر بے نقاب ہو چکے۔ سابق صدر آصف زرداری نے ماڈل ٹاؤن رپورٹ پر عوامی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ظلم کی بدترین مثال ہے۔زرداری کے اعزاز میں عشائیے کے لیے بریانی، قورمہ اور زردہ کی دیگیں بھی ان کی آمد سے قبل ہی عوامی تحریک کے مرکز پہنچ گئی تھیں جہاں انہوں نے مذاکرات کے بعد پرتکلف ضیافت کا بھی لطف اٹھایا۔ بعد ازاں ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مشترکہپریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ فلسطینی کاز کے لیے پیپلز پارٹی نے ہر جگہ آواز بلند کی، یورپی یونین نے بھی امریکی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے دار شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ مستعفی ہوں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے، سڑکوں پر نکلیں گے، سن لو شہباز شریف! جمہوریت وہ نہیں جو نواز اور شہباز چلا رہے ہیں، اداروں سے نہیں، شریفوں سے لڑیں گے۔سابق صدر نے شکوہ کیا کہ 6، 6 ماہ تک مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہیں ہوتے اور پاکستان پر 56 ارب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی اور طاقت کو دعوت نہیں دے رہے، حکمران خود آئین کو توڑ رہے ہیں، ہمیشہ سیاسی بصیرت کی بات کرتا ہوں، ملک میں تبدیلی کا واحد طریقہ ووٹ ہی ہے۔سابق صدر کا مزید کہنا تھا کہ علامہ صاحب سے ہماری پرانی وابستگی ہے، بینظیر بھٹو کے دور سے ہمارا ساتھ ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے، بہت ہو چکا، رپورٹ آنے کے بعد وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون کو خود کو قانون کے حوالے کر دینا چاہیے۔ آصف زرداری نے طاہر القادری کے ساتھ سیاسی اتحاد سے متعلق بھی اشارہ دے دیا۔ استعفوں کے سوال پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہر چیز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے جمہوریت کے لیے کام کیا، کبھی مغل بادشاہوں کے لیے کام نہیں کیا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے پوری انسانیت متاثر ہو گی، امریکی فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پوپ فرانسس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی چیئرمین شپ میں سارا منصوبہ مکمل ہوا، لاشیں گرانے کے بعد شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں ڈس انگیجمنٹ کی بات نہیں کی تھی، رپورٹ نے قاتلوں کی نشاندہی کر دی ہے، 2 روز قبل مشتاق سکھیرا کو آئی جی پنجاب لگایا گیا، نواز شریف ہیڈ آف گورنمنٹ کے طور پر ملوث تھے۔ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ ڈی سی او کو ایک دن قبل تبدیل کرنا خون کی ہولی کھیلنے کے لیے تھا، قتل عام کا سارا منصوبہ رانا ثنا کو سونپا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن حالات اور واقعات نہیں، پولیس افسروں کے بیانات میں مطابقت نہیں ہے، ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو استعفا دینا چاہیے، اگر وہ استعفا نہیں دیں گے تو انصاف لینے کے لیے پْرامن طریقے سے ہر قدم اٹھائیں گے۔دوسری جانب طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ۔ عمران خان نے طاہر القادری کو ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے اپنی بھر پور حمایت کی یقین دہانی کرائی اور عوامی تحریک کے متوقع احتجاج میں ہر ممکن ساتھ دینے کا بھی اعلان کیا۔ عمران خانے کہا کہ حصول انصاف کے لیے طاہر القادری جو بھی قدم اٹھائیں گے ان کا ساتھ دیں گے ۔ طاہر القادری نے حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں میں آئندہ ہفتے ملاقات پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔علاوہ ازیں عمران خان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نہتے لوگوں کو گولیاں ماریں گئیں ، شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کو دہشت گردی کے کیس میں اندر جانا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے سفارتخانے کی منتقلی سے متعلق سارے مسلمان ممالک کے سربراہان کو اس معاملے پر کھڑے ہونا چاہیے، ٹرمپ جیسے لوگ مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے اور وزیر اعظم کو بھی ترک صدر رجب طیب اردوان جیسا قدم اٹھانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا پورا زور ایک مجرم کو پارٹی کا صدر بنوانے پر مرکوز تھا ایک کرپٹ آدمی جو تین سو ارب چوری کرکے بیرون ملک لیکر گیا آج پریڈ گراؤنڈ میں ڈانس کر رہا ہے ،وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا احسن اقبال معتبر شکل بنا کر جھوٹ بولتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ