ٹرمپ نے قبلہ اول پر حملہ کیا ہے‘ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد آگے آئے‘ حافظ نعیم

335
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن امریکا اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے سے خطاب کر رہے ہیں‘ نائب امرا اسامہ رضی‘ اسحق خان اور دیگر بھی موجود ہیں
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن امریکا اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے سے خطاب کر رہے ہیں‘ نائب امرا اسامہ رضی‘ اسحق خان اور دیگر بھی موجود ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر )امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ پوری امت مسلمہ کے خلاف اورقبلہ اول پر حملہ ہے ، اس نے خونی لکیر کھینچی ہے ، ہم اس لکیر کو کسی صورت برقرار نہیں رہنے دیں گے ، ہم حماس کی تحریک مزاحمت کے ساتھ ہیں ، عالم اسلام کے حکمران اور40 اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد اس فیصلے کے خلاف آگے آئے اور اپنا کردار ادا کرے ،دنیا میں تمام انصاف پسند انسانوں کو چاہے وہ امریکا میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں ان کو اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے ، ڈونلڈ ٹرمپ صرف ایک احمق آدمی کا نام نہیں بلکہ امریکی ریاست کا صدر ہے اس لیے اب امریکی عوام کا یہ کام ہے کہ اپنے اوپر لگے اس بدنما داغ کو مٹانے کے لیے مسلمانوں کا ساتھ دیں ، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر آج ملک بھر میں یوم احتجاج منایاجائے گا، تمام ائمہ مساجد و علما کرام سے درخواست ہے کہ وہ بیت المقدس کی حیثیت کے حوالے سے عوام کو آگاہ کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز گلشن اقبال میں مسجد بیت المکرم کے سامنے مین یونیورسٹی روڈ پر بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مظاہرے سے ڈپٹی سیکرٹری کراچی حافظ عبد الواحد شیخ ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، محمد اسحاق خان ، امیرجماعت اسلامی ضلع شرقی یونس بارائی ، امیر جماعت اسلامی ضلع غربی عبد الرزاق خان اور جے آئی یوتھ کراچی کے صدر حافظ بلال رمضان نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پرسیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ، مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر سرفراز احمد اور دیگر بھی موجود تھے ۔مظاہرے میں شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج تھا کہ القدس اسرائیل کا دارالحکومت نہیں ، مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ، عالمی دہشت گرد امریکا، دہشت گرد اسلام نہیں ، القدس کی پکار الجہاد الجہاد ۔ مظاہرے میں شرکا نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور نعرے بھی لگائے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ صرف بیت المقدس کے اوپر حملہ اور اس پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان نہیں ہے بلکہ یہ اسرائیل کے گریٹر اسرائیل منصوبے کا ایک حصہ ہے ہم کسی صورت اس کو قبول نہیں کرتے ۔ ہم مسلم حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور40 ملکوں کی افواج کا اتحاد آپس میں لڑنے کے بجائے آگے بڑھے اور اپنا کردار اداکرے ،اگر یہ مل کر اسرائیل اور امریکا کے خلاف کھڑے ہوں تو اسرائیل اور امریکا کی جرأت نہیں ہوسکتی کہ وہ خونی لکیریں کھینچ سکیں ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو دارالحکومت قراردینا ایک احمقانہ فیصلہ ہے ، اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو فلسطین پر زبردستی طاقت کے زور پر ریاستی دہشت گردی کر کے بنا یا گیا ہے ۔ گزشتہ 80سال سے دہشت گردی جاری ہے، جس پر دنیا کی تمام طاقتوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اسی لیے اب امریکا نے جرأت کر کے دہشت گردانہ قدم اٹھایا ہے اور اپنے سفارتخانے کو وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے آج پوری امت مسلمہ میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ آج پوری دنیا میں مسلمان یک زبان ہیں اور شدید مذمت کا اظہار کررہے ہیں اور پوری امت مسلمہ اس اقدام کو تشویش کی نظر سے دیکھتی ہے اور اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے ۔محمد اسحاق خان نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس شرمناک فیصلے پر پوری دنیا کے مسلمانوں کے اندر غم و غصے کے جذبات بھڑک اٹھے ہیں ۔ ہم حکمرانوں اور امریکا کے غلاموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف اس فیصلے کی مذمت کریں بلکہ فوراًاو آئی سی کا جلاس بلائیں اور امریکا کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ