وزیراعلیٰ پختونخوا کا خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی کا اعلان

30

پشاور(آن لائن)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے خواتین کو با اختیار بنانے کی صوبائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو با اختیار بنانا قومی سطح پر غربت کے خاتمے،اعتدال پسند معاشرے کی تشکیل اور معاشی خود کفالت کی کنجی ہے۔ یہ انسانی ترقی اور بنیادی انسانی حقوق کا لازمی جز ہے۔ صوبائی حکومت جانتی ہے کہ خواتین کی ترقی در اصل انسانی ترقی کا پیش خیمہ ہے۔اس لیے خواتین کو با اختیار بنانا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ہم نے خواتین کے حوالے سے تعلیم، صحت ، گورننس ، انصاف تک رسائی اور روزگار کے مواقع بڑھانے سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں کئی ٹھوس اقدامات کیے ہیں تاہم
ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔خواتین کی تعلیم ،روزگار،جائیداد میں وراثت،قرضوں کی سہولت،انصاف تک رسائی ، سیاست و حکومت اور قومی و نجی زندگی کے تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلیے مزید اقدامات اور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ویمن امپاورمنٹ پالیسی پر سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے تقریب سے ویمن پارلیمنٹری کاکس کی چیئرپرسن معراج ہمایون، کنٹری ہیڈ ، یو این او ویمن ویلفیئر جمشید قاضی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق صوبائی حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی جبکہ تقریب میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی سپیکرڈاکٹر مہرتاج روغانی، صوبائی وزیراطلاعات شاہ فرمان اور بعض دیگر صوبائی وزرا و ارکان اسمبلی کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی وزیراعلی نے کہا کہ ہماری صوبائی حکومت نے خواتین کیلیے اپنی بہتری کی غرض سے فیصلہ سازی کے قابل بنانے اور انہیں ترقی کا سازگار ماحول مہیا کرنے کیلیے خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی ڈرافٹ کی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ اس ضمن میں اہداف کے حصول کیلیے کافی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔اس سلسلے میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔ یقین ہے کہ ان مخلصانہ کوششوں کی بدولت ہم خیبر پختونخوا میں خواتین کو با اختیار بنانے کا ہدف حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔اس پالیسی کا مقصد سماجی و معاشی،سیاسی اورقانونی حوالوں سے خواتین کی مجموعی حالت کی بہتری یقینی بنانا ہے۔ ان میں خواتین کو تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی، معاشرے میں صنفی تفریق کو کم سے کم سطح پر لانا، ملازمتوں اور آمدن کے مواقع بڑھانا ،سیاست و معیشت سمیت تمام میدانوں میں برابری کی سطح پر شرکت یقینی بنانا اور ان کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کا خاتمہ شامل ہیں جس کیلئے جامع قانون سازی اور اس پر مؤثر عملدرآمدناگزیر بن چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ