علاقوں کو مکمل طورپر صاف کرنے کیلیے منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

32

پشاور (آئی این پی ) سینئر وزیر بلدیات ودیہی ترقی خیبرپختونخوا و پارلیمانی لیڈ ر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ صفائی کے بارے میں عوامی آگہی عام کرنے اور عملے کی کارکردگی بڑھانے و حوصلہ افزائی کے لیے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز اور ڈبلیو ایس ایس سیز کے درمیان مقابلہ صفائی کرایا جائے گا، واٹسن سیل محکمہ بلدیات کے حکام جلد از جلد مجوزہ مقابلے کیلیے طریقہ کار وضح کریں، پوزیشن لینے والی ٹی ایم ایز اور ڈبلیو ایس ایس سیز کو انعامات دیے جائیں گے۔ وہ واٹسن سیل کے زیر اہتمام دو روزہ سینی ٹیشن فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈپٹی سیکرٹری بلدیات محمد خالق اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈبلیو ایس ایس پی انجینئر خان زیب نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ فیسٹیول کا انعقاد یونیسیف، واٹراینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا تھا جس میں تقریری اور پینٹنگز کے مقابلوں کے علاوہ مختلف تنظیموں نے اسٹالز بھی لگا رکھے تھے ،فیسٹیول کا مقصد صفائی اور پانی کے بارے میں عوامی آگہی کاپیغام عام کرنا تھا۔پانی وصفائی کے شعبے میں بہتر کارکردگی پر ڈبلیو ایس ایس سی مردان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ناصر غفور، انسانی فضلے سے پاک گاؤں کے لیے کوششیں کرنے پر بہترین کارکردگی کا ایوارڈ صوابی کی خیشنہ، واش بزنس ایوارڈ نگینہ جان، میڈیا ایوارڈ افتخار خان، واش ریسرچ ایوارڈ ہری پور یونیورسٹی کی عالیہ ناز، کمیونٹی لڈ ٹوٹل سینی ٹیشن ایوارڈ شاہ ناصر خسرو، بہترین اسٹال کا ایوارڈ پی آر ڈی ایس اور آرٹ ایوارڈ اقرا یونیورسٹی کی حبیبہ کو دیا گیا۔ آگنائرز ڈپٹی سیکرٹری بلدیات محمد خالق، واٹسن سیل کے اسسٹنٹ کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر عمران اللہ اور محمد شہاب کو بھی ایوارڈز دیے گئے۔ سینئر وزیر عنایت اللہ نے کہا کہ ریونیو مقابلے کی پوزیشن ہولڈرز ٹی ایم ایز کا اعلان جلد کیا جائے گا دنیا بھر کی توجہ پانی وصفائی کے شعبے پر ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسی شعبے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی شہری اور نیم شہری کے علاوہ دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی کی بدولت سہولیات تک رسائی آسان ہوگئی ہے جس کی وجہ سے گندگی بھی پیدا ہو رہی ہے شہری ودیہی علاقوں کو مکمل طورپر صاف کرنے کیلیے منظم منصوبہ بندی اور نظام کی ضرورت ہے ۔حکومت نے کارپوریٹ طرز پر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں کمپنیاں قائم کر دی ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ انہوں کہا کہ گلی محلوں اور سڑکوں پر گندگی پھینکنے کے انسداد کے بارے میں رائج قانون زیادہ مؤثر نہیں ہے جس پر نظر ثانی کی جائے گی جبکہ نالیوں کی بندش کا باعث بننے والے پلاسٹک بیگز کے بارے میں کارخانہ داروں، دکانداروں اور تاجر تنظیموں کو اس کے متبادل پر قائل کیا جائے گا ،پانی وصفائی کے بارے میں عوامی آگہی ضروری ہے اس مقصد کے لیے منتخب نمائندوں اور تعلیمی اداروں کی خدمات سے استفادہ کیا جائے، 50 فیصد مسائل کی وجہ انسانی رویے ہیں اگر رویے تبدیل کیے گئے تو دیگر مسائل حکومتی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ناصر غفور کو گلی محلوں میں گندگی پھینکنے کے انسداد کے قانون کو مؤثر بنانے کے لیے تجاویز دینے کی ذمے داری سونپ دی۔ سینی ٹیشن فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ گلی محلوں میں گندگی پھینکنے کی روک تھام کا موجودہ قانون موثر نہیں ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انجینئر ناصر غفور کو ہدایت کی کہ موجودہ قانون کا بین الاقوامی سطح پر رائج قوانین کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے جائزہ لیکر تجاویز پیش کی جائیں جس میں شہریوں کی ذمے داری کا بھی تعین کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ