ایس ایس پی ساجد مہمند کو نشانہ بنانے والا خود کش حملہ آور افغانستان سے بھیجا گیا ،گرفتار سہولت کاروں کا اعتراف

175
کوئٹہ: بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگٹی دہشت گردوں سے متعلق تفصیلات میڈیا کو بتا رہے ہیں
کوئٹہ: بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگٹی دہشت گردوں سے متعلق تفصیلات میڈیا کو بتا رہے ہیں

کو ئٹہ(نمائندہ جسارت) ایس ایس پی چمن ساجد خان مہمند کو نشانہ بنانے والا حملہ آورافغانستان سے بھیجا گیا تھا جس کا انکشاف گرفتار 2سہولت کاروں اعترافی جرم میں کیا۔ سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی کی ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ اور سیکٹر کمانڈر ایف سی بریگیڈئر تصور کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس نے سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ملکر2 خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ملزم محمود اچکزئی اور محمد سلیم اچکزئی چمن کے رہائشی ہیں یہ دونوں دہشت گرد ایس ایس پی چمن ساجد مہمند کے حملے میں سہولت کار تھے۔ پریس کانفرنس میں گرفتار
دہشت گردوں کے اعترافی بیانات بھی ملٹی میڈیا سکرین پر دکھائے گئے۔سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ساجد مہمند کو اس لیے نشانہ بنایا گیا انہوں نے دہشت گردوں کے فنڈنگ کے ذرائع یعنی اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں کی تھیں اور ان کارروائیوں میں ان دہشت گردوں کے کئی ساتھی بھی پکڑے گئے ۔ساجد مہمند پر حملے کی منصوبہ ساز اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے یہ سہولت کار افغانستان سے خودکش حملہ آور کو لے کر آئے تھے۔گرفتار دہشت گردوں نے چمن میں شاہ محمد، تاج محمد اور ڈاکٹر اختر محمد کے بیٹے اسفند یار کے اغوا میں ملوث ہونے اور رہائی کے بدلے لاکھوں روپے وصول کرنے اور کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں بینک اسلامی اور کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں الائیڈ بینک میں ڈکیتی میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا۔ دہشت گرد شہریوں کو اغوا کر کے افغانستان لے جاتے تھے اور تاوان وصول کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کو ٹی ٹی پی کی بھر پور مدد اور رقم ملتی تھی۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں افغانستان کی سرزمین اور ریاست کی تمام ترمدد پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کو حاصل ہے۔ یہ دہشت گرد بڑی آسانی سے وہاں نقل و حرکت کرتے ہیں اور ان کو پیسے بھی ملتے ہیں۔ بلوچستان پولیس کے ڈی آئی جی حامد شکیل پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کو افغانستان میں بھارت نے 50ہزار ڈالر دیے جانے کی بات درست ثابت ہورہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین او رریاست خاص طور پر افغان خفیہ ادارہ این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ادارہ را پاکستان میں حالات خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت ،سیکورٹی فورسز، خفیہ اداروں سب نے ملکر آج تک جتنی بھی ہائی پروفائلز کلنگ اور خودکش حملے ہوئے ہیں چاہے وہ بلوچ دہشت گردوں نے کیے ہوں یا مذہب کے نام پر ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ پولیس ٹریننگ کالج ، وکلا پر خودکش حملے اور سریاب میں بس پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانا اس کی مثال ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث دہشت گردوں کو بھی جلد بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ڈی آئی جی حامد شکیل ، ایس پی محمد الیاس پر حملوں میں ملوث عناصر کی گرفتاری پر ایک ایک کروڑ روپے جبکہ ایف سی چلتن رائفلز کے کمانڈنٹ پر خودکش حملے کے دہشت گردوں کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے بلوچستان حکومت نے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ ہم بلوچستان کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی جنگ میں ہماری مدد کریں جیسا کہ ماضی میں وہ کرتے رہے ہیں۔ سانحہ تربت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت، پولیس اور سیکورٹی ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور ملکر تفتیش کررہے ہیں۔ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا کا فیصلہ وفاقی حکومت نے افغان حکومت اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ ملکر کرنا ہے۔ دسمبر تک ڈیڈلائن دی گئی ہے اب دیکھتے ہیں وفاقی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے تاہم اس میں بلوچستان حکومت کی رائے یہی ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس وطن بھیجا جائے۔ دوسری جانب ضلع لورالائی کے علاقے کوہار ڈیم کے قریب ایف سی اور حساس ادارے نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی اور جھاڑیوں میں چھپائے گئے 20 عدد دیسی ساختہ بم برآمد کرلیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ