زمین اور سمندر کی گہرائی کا خلا سے مشاہدہ

458

سائنسدان خلا سے سمندر کے اندر چھپی حیات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے گہرے سمندر اور جھیلیں طرح طرح کی مخلوقات سے بھرے پڑے ہیں۔ ایسے چھوٹے چھوٹے آبی جانور بھی جو انسانی آنکھ کو نظر بھی نہیں آتے۔ تو اُن کے مشاہدہ کے لیے اب ایسی دوربینیں بنائی جا رہی ہیں جو خلا سے سمندر کی تہہ میں موجود زندگی کا سراغ لگا سکیں گی۔ لیکن، خلا سے ہی کیوں؟ اس بات کے جواب میں سمندری حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی ننھی آبی مخلوقات جھمگٹے کی شکل میں رہتی ہیں، جس کا خلا سے مشاہدہ بہتر طور پر ہو سکتا ہے۔ اور سائنسدان سمندر کے بدلتے رنگ سے آبی حیات کی موجودگی کا پتا چلاتے ہیں۔
ایک آبی مخلوق جس کا پتا لگانا ضروری ہے وہ ہے , ‘Phytoplanktonکیونکہ پانی کے تبدیل ہوتے درجہ حرارت اور خوراک کی موجودگی سے یہ نہایت چھوٹي آبی مخلوق ایک جگہ جمع ہوجاتی ہے اور پھر ایک زہریلا مادہ خارج کرتی ہے جو دوسری آبی حیات کے لیے تو نہیں لیکن انسانوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ خلا سے ان کی موجودگی کا ڈیٹا اس لیے اکٹھا کیا جاتا ہے تاکہ انسانوں کے لیے مچھلیوں اور جھینگوں کی فارمنگ اور شکار کی محفوظ جگہ کا تعین کیا جا سکے اور ساحلوں کو بھی محفوظ بنایا جاسکے۔ ’فائیوٹوپلانکٹون‘ نامی چھوٹے چھوٹي آبی پودے زمین پر موجود 50 فیصد آکسیجن پیدا کرنے کے بھی ذمے دار ہیں۔ اسی لیے 2022ء میں امریکی خلائی ادارہ ناسا زمین کا مزید گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے لیے جدید کیمروں سے لیس ایک اور سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ