کتابوں سے لگاؤ ، تحقیق اور لگن کامیابی کے زینے ہیں،عنایت اللہ خان

31

پشاور(آئی این پی )سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا وپارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ کتابوں سے لگاؤ ، جستجو ، تحقیق اور لگن کامیابی کے زینے ہیں۔ نوجوان پاکستان کا بہت بڑا سرمایہ اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کابہترین ذریعہ ہیں ۔ پاکستان کا مستقبل روشن اور تابناک ہے ،کچھ لوگ پاکستان کا منفی پہلو دکھا کر نوجوانوں کو مایوس کرتے ہیں ، نوجوانوں کی قوت کے مثبت استعمال سے بہت بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور اگر خدا نخواستہ منفی استعمال ہو تو یہی نوجوان بہت بڑا رسک ہیں ۔ملک کی 65فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ،ایک امریکن سروے کے مطابق پاکستان آنے والے چند سالوں میں دنیا کی گیارہویں بڑی معاشی قوت بننے جارہا ہے جس میں بنیادی کردار نوجوانوں کا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیر اہتمام ایکسپو سینٹر میں جاری دوروزہ ’’سی لاہور ‘‘نمائش کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سی لاہور نمائش سے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور محمد جبران بٹ بھی موجود تھے ۔عنایت اللہ خان نے کہاکہ پاکستان کے نوجوان صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور پوری دنیا میں پاکستان کے نوجوانوں میں پائے جانے والے ٹیلنٹ کا اعتراف کیا جاتا ہے مگر تعلیم و تربیت کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور ملک و قوم کی خدمت کرنے کے وہ مواقع نہیں مل رہے جو ان کا حق ہے ۔ملک میں تعلیمی پسماندگی کی بڑی وجہ ناکافی تعلیمی بجٹ اور سہولیات کا فقدان ہے ۔انہوں نے کہا کہ یورپ اور مغرب کے نوجوانوں اور طالب علموں کو جو سہولیات حاصل ہیں اگر پاکستان کے نوجوانوں کو وہی سہولتیں میسر ہوں تو ہم دنیا بھر میں تیز ترین ترقی کرنے والی قوم بن سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی اتنی بڑی فوج پاکستان کے لیے اللہ کا بہت بڑا انعام اور قوت ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم ترقی و خوشحالی کی بلندترین منزل کو حاصل کرسکتے ہیں اور اگر نوجوانوں کی یہی فوج ظفر موج تعلیم اور روز گار سے محروم رہی اور شاطر حکمران انہیں اپنے منفی مقاصد کیلیے استعمال کرتے رہے تو یہ ملک کے لیے بہت بڑا رسک اورایسا بوجھ ہوگا جسے اتار پھینکنا اور راہ راست پر لانا کسی کے بس میں نہیں رہے گااس لیے مرکزی حکومت کو فوری طور پر نوجوانوں کیلیے ایسی پالیسیاں بنا نا ہوں گی کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ٹیکنیکل تربیت حاصل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے اندر اسکلزاور مہارت کی کوئی کمی نہیں، کمی حکومت کی طرف سے ہے کہ وہ نوجوانوں کو اہمیت اور ان کا جائز مقام دینے کو تیار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل کو ناکام پالیسیوں پر ضائع کرنے کے بجائے ملک میں میڈیکل و انجینئرنگ کالجز اور نئی یونیورسٹیوں کے قیام ،کھیلوں کے میدانوں اور روز گار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کرکے ہم بہترین نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ