فیسوں میں اضافہ طلبہ ہی کا نہیں مستقبل کی نسلوں کا مسئلہ ہے، مشتاق خان

110

پشاور (وقائع نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ جامعہ پشاور میں متحدہ طلبہ محاذ کے دھرنے کی تائید اور حمایت کرتے ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، پاکستان کو اس وقت شدید قسم کے اندرونی اور بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں نے تعلیم کے شعبے پر سرمایہ کاری نہیں کی۔ تعلیم کو ترجیح دی جاتی اور شرح تعلیم کو بڑھایا جاتا تو یہ مسائل پیدا نہ ہوتے، جاپان تباہی کے بعد اگر دوبارہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے تو یہ تعلیم کی وجہ سے ہے۔ جن ممالک نے تعلیم کو ترجیح دی اور اس شعبے پر سرمایہ کاری کی وہ آج دنیا کے امام ہیں۔ جو ممالک تعلیم کو ترجیح نہیں دیتے، تجربہ گاہوں اور لائبریریوں کو ویران کردیتے ہیں وہ ترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اقوام کی ترقی کا راستہ لائبریریوں اور لیبارٹریوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور علم کی روشنی کو پھیلانے کے لیے جدوجہد کرنا زندگی کی علامت ہے۔ وائس چانسلر پرامن طلبہ کے مطالبات تسلیم کریں اور جلد از جلد ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ وائس چانسلر، ایڈمنسٹریشن، وزیر اعلیٰ اور گورنر طلبہ کے دھرنے کا نوٹس لیں اور اس مسئلے کا فوری اور پائیدار حل نکالیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور یونیورسٹی میں متحدہ طلبہ محاذ کے فیسوں میں اضافے کے خلاف دھرنے میں شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فیسوں میں اضافہ موجودہ طلبہ کا ہی نہیں مستقبل کی نسلوں کامسئلہ بھی ہے، متحدہ طلبہ محاذ مستقبل میں آنے والے طلبہ کی سہولت کے لیے جنگ لڑرہے ہیں۔ تعلیم کوئی قابل فروخت جنس نہیں جس کی قیمت بڑھائی جائے، صوبائی حکومت طلبہ کے مطالبات تسلیم کرے اور فیسوں میں اضافہ واپس لینے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے دیگر مطالبات بھی پورے کرے۔ حکومت طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کرے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں طلبہ یونین کی بحالی کی منظوری دی جاچکی ہے، عدالت عظمیٰ کو بھی طلبہ یونین کی بحالی پر کوئی اعتراض نہیں۔ جماعت اسلامی طلبہ کی پشت پر کھڑی ہے۔ انہوں نے اپنے وزرا اور ایم پی ایز کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کے مسائل اسمبلی میں اٹھائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ