خیبر ایجنسی، قبائلی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 22 گھنٹے ہوگیا

29

خیبر ایجنسی (آئی این پی) حکومت نے ملک بھر میں پا نچ ہزار فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن قبائلی علاقوں میں ایک فیڈ ر پر بائیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، قبائلی علاقوں میں رات کے وقت صرف دو گھنٹوں کے لیے بجلی آتی ہے جس سے گھریلو ضروریات پوری نہیں ہوتیں جبکہ بازار کی بجلی گزشتہ دو سال سے ٹیسکو نے بل کی عد م ادائیگی پر کاٹ دی ہے، بجلی کی عدم دستیابی سے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے عوام شدید اذیت سے گزر رہے ہیں۔ تمام صورتحال پر پولیٹیکل انتظامیہ اور رکن قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ وفاقی حکومت نے گز شتہ روز ملک بھر میں پانچ ہزار فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن بد قسمتی سے قبائلی عوام بجلی کے لیے ترس گئے بلکہ قبائلی علاقوں میں فیڈرز پر بائیس گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں رکن قومی اسمبلی کے پرسنل سیکرٹری حاجی واحد آفریدی نے بتا یا کہ وہ مسلسل ٹیسکو چیف فاٹا کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کو شش کر تے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے وہ لوگوں کی تکالیف سے بخوبی آگاہ ہیں ،لوڈشیڈنگ کم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالرزاق شنواری نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی ہوتی ہے، حکمران قبائلی عوام کو جانوروں کی نظر سے دیکھتے اور انہیں پاکستانی شہری تسلیم ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسکو قبائلی عوام کے ساتھ ظلم کررہا ہے۔ سخت سردی میں خواتین اور بچے دور دراز سے پانی لاتے ہیں، کوئی پرسان حال نہیں۔ واضح رہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں لکڑی اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیاہے جو غریب عوام کی قوت خرید سے باہر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ