فضائی آلودگی میں کمی کے لیے کمرشل ٹرانسپورٹ کو یورو ٹو پر منتقل کیا جائے،ملک عزیر خان

175
نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے تحت منعقدہ آلودگی سے پاک ٹرانسپورٹ کے موضوع پر سیمنار کے موقع پر قومی اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ماحولیات کے چیئرمین ملک عزیر خان و دیگر کا گروپ فوٹو
نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے تحت منعقدہ آلودگی سے پاک ٹرانسپورٹ کے موضوع پر سیمنار کے موقع پر قومی اسمبلی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ماحولیات کے چیئرمین ملک عزیر خان و دیگر کا گروپ فوٹو

کراچی(اسٹاف رپورٹر) فضائی آلودگی کی صورتحال بہت سنگین ہوگئی ہے اور اس آلودگی میں 70فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت کمرشل ٹرانسپورٹ کو یورو ٹو پر منتقل کرے اور معاہدے کے تحت جوریفائنریز یوروٹو ڈیزل نہیں بنا رہی ہیں ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔ یہ بات قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ کے چیئرمین ملک عزیر خان نے آلودگی سے پاک ٹرانسپورٹ پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پربریگیڈیئر ایم اسلم سیکرٹری جنرل سی ایس آر کلب، ڈاکٹر مرتضی مغل صدر سی ایس آر کلب، سلیم جنجوعہ ہیڈ آف پالیسی CPEC اور کنٹری منیجر پاکسٹران، فوزیہ بلقیس ملک منیجر اسلام پروگرام آفیسر آئی یو سی این، رب نواز ڈائریکٹر ڈبلیو ڈبلیو ایف، مومی سلیم پروگرام کوآرڈی نیٹرہین رچ بول اسٹوفنگ پاکستان، علی قریشی پروجیکٹ ٹیکنیکل ماہر یونیڈو پاکستان نے بھی خطاب کیا۔ ملک عزیر خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر بالخصوص گاڑیوں کی حکومتی پالیسی کے تحت جدید اور ماحول دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ مگر اس سیکٹر پر کبھی توجہ نہیں دی گئی اور موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی2017ء کے مطابق اسے ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ماحولیات ایکٹ 2017ء پر سختی سے عملدرآمد کروانا چاہیے تاکہ ملک میں پرانے ٹرانسپورٹ سسٹم سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے اور ماحولیات پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اسلام آباد اور اس کے مضافاتی علاقوں میں فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی محفوظ طریقہ موجود نہیں ہے جو کہ ایک تشویشناک بات ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی سیکرٹری ماحولیات سید ابو عاکف نے کیا انہوں نے کہا کہ عوام میں ماحولیات کے تحفظ اور آلودگی کے خاتمے کے لیے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ملک میں 15فیصد ڈیزل ریفائنریز بنا رہی ہیں جو کہ یورو کمپائنٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفائنریز کو ڈیزل یورو کمپائنٹ کرنے کے لیے400ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ گاڑیوں کو یورو انجن استعمال کرنے کی طرف راغب کیا جائے کیونکہ اس سے فضا میں آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔اس موقع پر لیڈ پاکستان کے سی ای او علی توقیر شیخ نے کہا کہ ملک میں پچھلے 20برسوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا برا حال ہوگیا جبکہ دوسری طرف لوگوں کا اپنی ٹرانسپورٹ جیسا کہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں ٹرانسپورٹ کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے اقدامات کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ ملک میں جدید ٹرانسپورٹ کی سسٹم کی شدید ضرورت ہے۔ یو این ڈی پی کے پروجیکٹ پاکسٹران کے ڈاکٹر سلیم جنجوعہ نے کہا پاکستان کو چاہیے کہ وہ ملک میں جدید گاڑیوں کے استعمال کو لازمی قرار دیں کیونکہ پرانی گاڑیاں جن انجن کا استعمال کر رہی ہے ان سے ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہور ہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جدید گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی کے خاتمے میں مدد مل سکے گی۔ آئی یو سی این کی فوزیہ ملک نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے لیے عملی اقدامات کرے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو اس پر منتقل کر دے۔ نیشنل فورم کے صدر محمد نعیم قریشی نے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث 2015ء میں ملک میں ایک لاکھ35ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی سال دہشت گردی میں 3ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے اور فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ سیکٹر پر توجہ دینی ہوگی اور احکومت ایف بی آڑ کے ایس آر او جو یورو ٹو کو ترقی دینے کے لیے جاری کیا گیا ہے اس پر عمل درآمد کرائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ