فاٹا انضمام‘ جماعت اسلامی کا 10دسمبر کو اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان

293

اسلام آباد(صباح نیوز)جماعت اسلامی پاکستان نے فاٹااصلاحات کے نفاذ اورخیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے فاٹا سے اسلام آباد تک لانگ مارچ اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان کردیا۔جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان نے اسلام آباد میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ،سابق رکن قومی اسمبلی و نائب امیر صوبہ صاحبزادہ ہارون رشید ، جنرل سیکرٹری عبدالواسع ،زبیر فاروق خان کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپاس پشاور سے10دسمبر کو3 روزہ لانگ مارچ شروع کریں گے اور12دسمبرکو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام امریکی نہیں عوامی سازش ہے جس سے عوام کوعدالتوں تک رسائی ، آزادی اظہار رائے ملے گی ۔ مردم شماری میں فاٹا کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے، مشترکہ مفاد کونسل میں سندھ کی طرح نظرثانی کی جائے ۔ مشتاق احمدخان نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ قومی مسئلہ بن گیا ہے فاٹا اصلاحات کا نہ ہونا انسانی المیہ ہے فاٹا کے عوام انصاف ، تعلیم صحت اور ہر قسم کی ترقی سے محروم ہیں ۔مردم شماری میں فاٹا میں 48لاکھ آبادی بتائی گئی ہے جو صحیح نہیں ہے کم از کم آبادی ایک کروڑ کے برابر ہے سندھ کی مردم شماری پر جس طرح نظرثانی کی جارہی ہے اس طرح فاٹا کی مردم شماری پر بھی نظرثانی کی جائے اور مشترکہ مفادات کونسل میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا جائے، فاٹا میں افریقہ سے بھی زیادہ غربت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں 23 گھنٹے بجلی بند ہوتی ہے، فاٹا میں کوئی بڑی یونیورسٹی نہیں ہے ،ایک یونیورسٹی ہے جس میں صرف 76 طلبہ زیر تعلیم ہیں، فاٹا کے عوام کو انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔عدالتوں میں شنوائی تک نہیں ۔150 سرکاری ملازمین نے فاٹا کے عوام کو غلام بتایا ہوا ہے، پورے ملک کو سیاسی طور پر چلایا جا رہا ہے جبکہ فاٹا کو انتظامی طور پر چلایا جا رہا ہے اور ایف سی آر کے تحت جنگل کا قانون نافذ ہے ایف سی آر غلامی کا پروانہ ہے جس نے عوام کے انسانی حقوق صلب کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ایک فرد کے لیے قانون سازی ہوتی ہے اور نا اہل شخص کو پارٹی کا صدر بنانے کے لیے اہل بنا دیا جاتا ہے مگرفاٹاکے ایک کروڑ سے زائد افراد کے لیے قانون سازی نہیں ہوتی ۔ فاٹا میں ماہانہ اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے جس میں حکومتی اعلیٰ حکام ملوث ہیں ،فاٹا ان کے لیے سونے کی چڑیا بنی ہوئی ہے ،فاٹا ایک کھلی جیل ہے ، جس میں جیل کے حقوق بھی نہیں ہیں ۔فاٹا اصلاحات اور اس کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے قومی اسمبلی نے حق میں ووٹ دیے، سینیٹ نے بھی اس کی حمایت کی ،مگر اس کے باوجود اس پر عمل نہ کر کے پارلیمنٹ کی توہین کی جا رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد نظر نہیں آ رہاہے اور وہ فاٹا کے عوام کے ساتھ فراڈ کررہی ہے، فاٹا میں کالے قوانین کی ذمے دار موجود حکومت ہے۔مشتاق احمد خان نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے نفاذ اور فاٹاکو خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے 10دسمبر سے خیبرپاس پشاور سے لانگ مارچ شروع کریں گے جس میں فاٹا کے تمام علاقوں کی نمائندگی ہوگی ۔ لانگ مارچ کا پشاور میں استقبال کیا جائے گااور وہاں جلسہ بھی کیا جائے گاجس کے بعد نوشہرہ ، جہانگیرہ اٹک میں بھی جلسے کیے جائیں گے، 11تاریخ اٹک سے فیض آباد کی طرف مارچ کیا جائے گااور 12تاریخ کوفیض آباد سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔ فاٹاکے عوام ظلم کے نظام کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ حکومت فوراًخیبر پختونخوا میں فاٹاکا انضمام کرے اور فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد شروع کرے اگر حکومت اصلاحات اور انضمام پر عمل نہیں کرتی تو اس کے لیے عدالت عظمیٰ جانے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ عدالت کے ذریعے حکومت کو عمل درآمد کرنے پر مجبور کیا جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ