پنگریو جھڈو شاہراہ کا تعمیراتی کام روک دیا گیا، عوام کا احتجاج

225

پنگریو (نمائندہ جسارت) زیریں سندھ کے چار اضلاع کو باہم ملانے والی پنگریو جھڈو شاہراہ کا تعمیراتی کام کرانے والے ٹھیکیدار نے شاہراہ کا تعمیراتی کام ادھورا چھوڑ کر مشینری واپس بھجوادی ہے، حکومت سندھ کی جانب سے شاہراہ کے لیے 9 کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کے باوجود ٹھیکیدار کی جانب سے شاہراہ کی تعمیر ادھوری چھوڑنے پر پنگریو، جھڈو، ملکانی شریف سمیت چاروں اضلاع کے عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان اضلاع کی سیاسی، سماجی، تاجر اور کاشت کار تنظیموں نے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ دس سال سے زیر التوا پنگریو جھڈو شاہراہ کی تعمیر کے لیے متاثرہ علاقوں کے عوام بالخصوص گیان ستھ نامی ملکانی شریف کے نوجوانوں کی تنظیم کے مسلسل احتجاج کے بعد ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کمال خان چانگ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کر کے اس شاہراہ کی تعمیر کے لیے 9کروڑ روپے کی رقم مختص کرائی تھی جس کے بعد اس شاہراہ کے سمن سرکار ملکانی شریف سیکشن کا تعمیراتی کام مکمل کیا گیا تھا تاہم ملکانی شریف تا جھڈو سیکشن کا کام گزشتہ چار ماہ سے زائد عرصے سے بند تھا مگر تعمیراتی مشینری اور کچھ لیبر موجود تھی اور ٹھیکیدار و متعلقہ محکمے کے افسران کے علاوہ رکن قومی اسمبلی کمال خان چانگ کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی جارہی تھیں کہ شاہراہ کا باقی تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے گا مگر ٹھیکیدار نے کام ادھورا چھوڑ دیا ہے اور شاہراہ کی تعمیر کے لیے موجود مشینری اور لیبر واپس منگوالی ہے، جس کی وجہ سے شاہراہ کے ملکانی شریف جھڈو دس کلومیٹر طویل سیکشن کا تعمیراتی کام ایک بار پھر کٹھائی میں پڑ گیا ہے۔ متاثرہ اضلاع بدین، میرپور خاص، تھرپارکر اور عمرکوٹ کی سیاسی، سماجی، کاشت کار، تاجر اور طلبہ تنظیموں نے شاہراہ کا تعمیراتی کام ادھورا چھوڑنے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنگریو جھڈو شاہراہ کی تعمیر کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے بجٹ مختص کرنے کے باوجود تعمیراتی کام ادھورا چھوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ رہنماؤں نے رابطہ کرنے پر کہا کہ پنگریو جھڈو شاہراہ زیریں سندھ کے لاکھوں باشندوں کی گزرگاہ ہے جس کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث نہ صرف عوام، طلبہ وطالبات اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اس شاہراہ کے ذریعے چاروں اضلاع کے درمیان ہونے والی تجارت بھی کافی عرصے سے بند ہے، جس کی وجہ سے تاجروں کو زبردست معاشی نقصان ہورہا ہے۔ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ شاہراہ کی تعمیر کے لیے مختص بجٹ ٹھیکیدار اور متعلقہ سرکاری افسران نے باہمی ملی بھگت کر کے ہڑپ کرلیا ہے، جس کی وجہ سے تعمیراتی کام ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔ رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور نیب سندھ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پنگریو جھڈو شاہراہ کا تعمیراتی کام ادھورا چھوڑنے کے معاملے کا نوٹس لیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ