فہمیدہ قدیر نے کراچی کا چارج سنبھال لیا

38

نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن میں پانچ نئے ارکان نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، کراچی بینچ میں ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور لیبر کورٹ نمبر2 کی سابق پریذائیڈنگ آفیسر محترمہ فہمیدہ قدیر کو تعینات کیا گیا ہے جہاں انہوں نے دو بینچوں کا کام سنبھال لیا ہے۔ جب کہ ممبر سلیم جان کو سکھر بینچ بھیج دیا گیا ہے۔ اس طرح اب کوئٹہ، کراچی، سکھر، ملتان، لاہور، پشاور اور اسلام آباد کی بینچوں میں باقاعدہ سماعت کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت پورے پاکستان میں 9 ہزار مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ جب کہ 11 سو اپیلیں بھی التوا میں پڑی ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اب فل بینچ کی بھی تشکیل ہوجائے گی اور التوا میں پڑی اپیلوں کو بھی جلد نپٹایا جائے گا۔ رجسٹرار ٹریڈ یونینز NIRC کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹریڈ یونین کے معاملات بھی التوا کا شکار ہیں۔ اس موقع پر انڈسٹریل ریلیشنز ایڈوائزر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ملک رفیق نے نمائندہ جسارت کو بتایا کہ مقدمات کی جلد سماعت کے لیے چیئرمین NIRC شاکر اللہ جان ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ سے ملاقات کرکے ان کی خصوصی توجہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے التوا میں پڑے مقدمات کی طرف دلوائی اور انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ عنقریب ہی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے محنت کش اس سلسلے میں خوش خبری سنیں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ NIRC
کی کمپیوزیشن اللہ کے فضل سے مکمل ہوگئی ہے اور اب ان کی بھرپور توجہ التوا میں پڑے مقدمات کی طرف ہوگی۔ ملک رفیق نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ سپریم کورٹ میں التوا میں پڑے مقدمات جن میں صنعتی تعلقات کے قانون 2012ء کی طرف دلائی ہے جس میں NIRC اور لیبر کورٹس کی حدود کا تعین ہونا ہے کہ جلد نبٹایا جائے تا کہ محنت کشوں کو مقدمات کی سماعت کے لیے حدود کا تعین ہوسکے ورنہ محنت کش انصاف کے انتظار میں دنیائے فانی سے کوچ کر جائیں گے۔ سیاسی مقدمات سے زیادہ اہمیت محنت کشوں کے مقدمات کی ہے کیوں کہ ایک محنت کش کی ذمہ داری ایک خاندان کی کفالت ہے۔ ہزاروں محنت کش اسی کشمکش میں ہیں کہ ان کے مقدمات کی سماعت NIRC نے کرنی ہے یا لیبر عدالتوں نے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ