FESاورویب کوپ کا پروگرام

36

ورکرز ایمپلائرز بائی لیٹرل کونسل (WEBCOP) کا اجلاس 29نومبر 2017 کو اواری ٹاور ہوٹل کراچی میں تنظیم کے صدر احسان اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں سیکرٹری جنرل قموس گل خٹک نے مفصل رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں FESکے عبدالقادر اور ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان کے صدر مجید عزیز ، آصف اقبال ماہر اقتصادیات، آمیر خان ہیڈ آف پالیسی ڈویژن CPECایچ آر ڈی، کشور خان، منظور میمن ، چودھری محمد یعقوب ، فصیح الکریم، شوکت علی نے خطاب کیا۔ صوبہ بلوچستان سے مزدور رہنما سلطان خان، پنجاب سے محمد یعقوب چوہدری، نسیم اقبال، خیبر پختونخواہ سے محمد اقبال، سندھ سے قموس گل خٹک، حبیب الدین جنیدی، شوکت علی، جلیل شاہ، حاجی نور محمد، محمد رفیق، محمد شفیع غوری اور ممتاز صنعت کاروں نے شرکت کی اور ملک میں انڈسٹری اورمزدور طبقے کو درپیش مشکلات پر غور کیاگیا۔ اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014 سندھ صنعت کاروں اور مزدور نمائندوں کی مشاورت کے بغیر سہ فریقیت اورآئی ایل او کے کنونشن 144 کے خلاف یکطرفہ قانون سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جس میں نو (9) حکومتی اداروں کے نمائندگان کے علاوہ اسپیکر سندھ اسمبلی کی جانب سے نامز کردہ تین ایم پی اے کو بھی ممبرز نامزد کرنا ہے۔ اس میں ممتاز مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی کے علاوہ دومن پسند افراد کو مزدور نمائندہ اور تین ایمپلائرز کے ایسے نمائندے نامزد کیے گئے ہیں جو کسی ایمپلائرز تنظیم سے تعلق نہیں رکھتے۔ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ سہ فریقی اداروں کے فنڈ بذریعہ قانون صنعتی اداروں کے مالکان سے مزدوروں کی فلاح وبہبود کے لیے وصول کیے جاتے ہیں جس میں حکومت کی طرف سے کوئی میچنگ گرانٹ شامل نہیں ہے لیکن سال 2012سے ملازمت کے دوران فوت ہونے والے کارکنوں کی بیواؤں اور قانونی وارثوں کو ڈیتھ گرانٹ کے کلیم نہیں ملے۔ جہیز گرانٹ، اسکالر شپ کی اسکیمیں غیر فعال اور سیونگ مشینوں کی اسکیم عملاً بند ہے۔ مزدوروں کے نام سے تعمیر کردہ مکانات پر لینڈ مافیا اور غیر متعلقہ افراد کے قبضے ہیں۔ حیدرآباد سائٹ میں 128فلیٹ پر 6سال سے قبضے کو ختم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ گلشن معمار کے ایک ہزار فلیٹوں پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے بمشکل قبضہ ختم ہوا مگر ان فلیٹوں کو رہائش کے قابل بنانے پر کروڑوں روپیہ خرچ ہوں گے جس میں کرپشن کا اندیشہ ہے۔ لاکھڑا کول فیلڈ میں زیر تعمیر ورکرز ماڈل اسکول پر ٹھیکیدار سے تنازعے کی وجہ سے سات سال سے کام بند ہے جس کا تخمینہ لاگت پانچ گنا بڑھ چکا ہے۔ مزدوروں کے نام پر نئی لیبر کالونیاں حکمران پارٹی سے وابستہ افراد کے کہنے پر تعمیر کی جارہی ہے۔ ورکرز ماڈل اسکولوں میں زیر تعلیم مزدوروں کے بچوں کو یونیفارم، جوتے، کتابیں، جرسیاں فراہم نہیں کی جاتی اور طالبعلموں کو بیٹھنے کے لیے کرسیاں ٹیبل وغیرہ دستیاب نہیں ہیں۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نے کوئی نئی ویلفیئر اسکیم روشناس نہیں کرائی اور پرانی اسکیمیں غیر فعال ہیں مگر کارکنوں کو سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کیے جارے ہیں۔ جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس لیے بورڈ کے حکام نے جوابدہی کے طریقہ کار کو بھی ختم کردیا۔ صرف بالا حکام کی خوشنودی پر کام چلایا جارہا ہے ۔
اجلاس کو مزدور رہنماؤں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں کاغذی اسکیموں کے حوالے سے کرپشن زور وشور سے جاری ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ویلفیئر احتشام اس کا ماسٹر مائینڈ اور بالا حکام کو مال پہنچانے کے آلہ کار کے طورپر ماہر ترین شخصیت کے طورپر کام کررہے ہیں۔ جوکسی لیبر لیڈر یا ڈیتھ گرانٹ کلیم کے وارث سے فون پر بات کرنے کوبے عزتی تصور کرتے ہیں اور نہ سیکرٹری بورڈ کسی کے فون یا مسیج کا جواب دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان افسران کو صرف بالا حکام کی خوشنودی حاصل کرنے کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے اس وقت ہزاروں ڈیتھ گرانٹ کے کلیم پینڈنگ پڑے ہیں جن پر درخواست گزاروں سے شائدبارگننگ کی جاری ہے ۔جہیز گرانٹ اور اسکالر شپ کی اسکیمیں 2012سے غیر فعال اور منجمد پڑی ہیں حال ہی میں 2011کے اسکالر شپ کے چیک تقسیم ہوئے اس میں بھی بورڈ کے اہلکاروں نے شایدبعض لوگوں سے رشوت وصول کی ہوگی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر محنت سے مطالبہ کیا گیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014 میں ترمیم کرکے بورڈ کی سہ فریقی حیثیت اور سیکرٹری لیبر سندھ کو چیئرمین کی حیثیت سے بحال کیا جائے اور صنعت کاروں اور مزدوروں کے تنظیموں سے نامزد کردہ اسٹیک ہولڈر کو ممبر نامزد کیے جائیں۔ بورڈ پر قابض کرپٹ افسران کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور ان کو تبدیل کرکے ان کی جگہ دیانتدار افسران کا تقرر کیا جائے۔ تاکہ ویلفیئر اسکیموں میں کرپشن کو کم کیا جاسکے۔
اجلاس میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی کے ہسپتالوں میں میڈیسن کی کمی اور جعلی ادویات کی خریداری لوکل پرچیز کے نام پر بدعنوانیوں اور کرپٹ ڈاکٹروں کو اہم عہدوں پرتعینات کرنے، گورننگ باڈی میں غیر نمائندہ افراد کو بطور اسٹیک ہولڈر نامزد کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حال ہی میں جن افراد کو مزدور نمائندوں کے طور پر گورننگ باڈی میں نامزد کیا گیا ہے ان کو سندھ کے صنعتی مزدور جانتے تک نہیں ہیں۔ راتوں رات فیڈریشن کے جعلی لیٹر پیڈ چھپوا کر غیر متعلقہ افراد کو مزدور لیڈر بناکر ہاں میں ہاں ملانے کیلئے نامزد کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس ادارے میں ایمپلائرز اور کارکنوں کی نمائندگی تقریباً ختم کر دی گئی ہے اور بدعنوانیوں کا دور دورہ ہے ۔کمشنر سوشل سیکورٹی تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس ادارے پر مسلط ہیں اور ادارے میں ہونے والی کرپشن کا تحفظ کررہے ہیں۔
اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ سوشل سیکورٹی کی گورننگ باڈی کو توڑ کر دوبارہ گورننگ باڈی تشکیل دینے کے لیے نمائندہ افراد کو نمائندگی کے لیے نامزد کیا جائے ۔خصوصاً ولیکا اور لانڈھی اسپتال کے تنظیمی اور مالی معاملات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کی تحقیقات سندھ نیب سے کرائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور کمشنر سوشل سیکورٹی کو فی الفور تبدیل کرکے اس کی تعیناتی کے عرصے کی تحقیقات کرائی جائے تاکہ مزدوروں کے علاج کے نام پر کروڑوں روپیہ کی بدعنوانیوں میں ملوث افراد کا احتساب کیا جائے ۔ اجلاس میں EOBIکی کارکردگی پر عدم اطمنان کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ EOBIکے موجودہ چیئرمین کی جانب سے رائج الوقت قوانین رولز اور BOT کو نظر انداز کرکے یکطرفہ احکامات کے ذریعے فارمولہ پنشن کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے تاخیر سے پنشن کلیم داخل کرنے پر Limitation ایکٹ کے نفاذ اور بیوہ پنشن میں تاریخ موت سے ادائیگی بند کرنے PR-02A میں نام درج نہ ہونے والے کارکنوں کو پنشن نہ دینے اور دیگر یکطرفہ تبدیلیوں کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ یہ یکطرفہ احکامات فی الفور واپس لے کر سابقہ طریقہ کار بحال کیے جائیں۔ اجلاس احسان اللہ خان کی مفصل وضاحتوں اور صدارتی تقریر کے بعد ختم ہوا ۔ جس میں EOBIکے چیئرمین بھی آخری وقت میں شریک ہوئے اور انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ