مزدور قوانین ۔۔حقوق اور ذمہ داریاں

68

پاکستان میں اب تک جو معروف لیبر قوانین منظور کئے گئے ہیں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔
1. Newspaper Employees (Condition of Service) Act,1975
2. The Industrial Relations Ordinance, 1969
3. The Industiral and Commercial Employment (Standing Order) Ordinance, 1968.
4. The Payment of Wages Act, 1936
5. The Minimum Wages Ordinance, 1961
6. The Apprenticeship Ordinance, 1962
7. The Newspaper Employees (Conditions and Service) Act, 1973
8. The Factories Act,1934
9. The Workmen’s Compensation Act, 1923
10. Employees Social Security Ordinance, 1965
11. The Shops and Establishment Ordinance, 1969
12. The Companies Profits (Workers Participation) Act, 1968
13. Workers Welfare Fund Ordinance, 1971
14. The Fatal Accidents Act, 1855
15. The Employees Liability Act, 1938
16. The Employees of Children Act, 1938
17. The Road Transport Workers Ordinance,1961
18. Workers Children (Education) Ordinance, 1972
19. The Employees Old Age Benefit Act, 1976
20. A.J.K Industrial Relations Ordinance, 1974
21. A.J.K Industrial Relations Rules, 1975
22. NIRC (Procedure and Functions) Regulations, 1973
23. Punjab Industrial Relations Rules, 1977
24. Sindh Industrial Relations Rules, 1973
25. Baluchistan Industrial Relations Rules, 1973
26. N.W.F.P Industrial Relations Rules, 1974
27. Martial Law Regulation No.51 concerning Person in Govt. Service
28. Martial Law Regulation No.52 concerning P.I.A.C
29. Dock Labourers Act, 1934
30. Dock Workers (Regulation of Employment) Act, 1974
31. Mines Act, 1923
31A. Punjab Coal Mines Rescue Rules, 1986
32. Excise Duty on Minerales (Labour Welfare) Act, 1967
33. The Mines Meternity Benefit Act, 1941
34. Coal Mines (Fixation of Rates of Wages) Ordinance, 1960
35. Essential Personel (Registration) Ordinance, 1948
36. Pakistan Essential Services (Maintenance) Act, 1952
37. Essential Services (Maintenance) Rules, 1962
38. Punjab Essential Services (Maintenance) Act, 1958
39. Sindh Essential Services (Maintenance) Act, 1958
40. West Pakistan Essential Services (Maintenance) Act, 1958
(As inforce in Baluchistan)
41. West Pakistan Essential Services (Maintenance) Act, 1958
(As inforce in N.W.F.P)
42. Control of Employment Ordinance, 1965
43. Control of Employment Rules, 1965
44. Fee Charging Employment Agencies (Regulation) Act, 1976
45. Emigration Ordinance, 1979
46. Employees Cost of Living (Relief) Act, 1973
47. Employees Cost of Living (Relief) (Amendment) Ordinance, 1991
48. Compulsory Services in the Armed Forces Ordinance, 1971
49. Employment of Children Act, 1991
50. Punjab Local Coal Mines Rescure Rules, 1986
51. Bonded Labour System (Abolition) Act, 1992
ان قوانین کے علاوہ مزید اور بھی قوانین ہو سکتے ہیں۔ 2002میں جنرل مشرف نے انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 1969 منسوخ کر کے نیا انڈسٹریل رلیشن ایکٹ نافذ کیا۔ اس ایکٹ پر شدید تنقید بھی کی گئی اور 2008 میں اس قانون کو منسوخ کر کے نیا انڈسٹریل رلیشن ایکٹ 2008 نافذ کیا گیا۔ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد چاروں صوبوں نے 2010 میں انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ نافذ کیا اور یہ تمام ایکٹ اپنے عنوان اور دائرہ کار کے اختیار سے 1969 کی کاپی تھی جب کہ صوبہ پنجاب میں اپنے مقاصد کے لیے یونین سازی پر 50 ورکرز کی پابندی عائد کی جو بعد میں واپس لے لی گئی 18 ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے درج ذیل قوانین صوبائی اسمبلی سے پاس کروائے ۔
(1)دی سندھ ٹرم آف ایمپلائیمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈر ایکٹ2015)
(2)پیمنٹ آف ویجیز ایکٹ
(3) فیکٹری ایکٹ
(4)سوشل سیکورٹی ایکٹ
(5)ورکر ویلفےئر ایکٹ
(6)ای او بی آئی ایکٹ سندھ
مزدور قوانین میں حقوق
*جہاں تک حقوق کی بات کی جائے اس میں سب سے اہم قانون انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ ہے جو ورکرز کو ٹریڈ یونین تشکیل دینے اور اس کو باقاعدہ اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کیا جاتا ہے اس ایکٹ کے تحت ورکرز اپنی مرضی اور آزادی سے کسی ادارے میں بھی ٹریڈ یونین تشکیل دینے کے مجاز ہیں اور وہ یونین کے صدر اور جنرل سیکرٹری کے دستخطوں سے رجسٹریشن کی درخواست دے سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کی درخواست کے ساتھ یونین کے دستور اور دیگر اہم دستاویز کا منسلک کرنا ضروری ہے۔ یونین کی رجسٹریشن کے دوران کوئی ایمپلائر قانونی طور پر اس بات کا مجاز نہیں کہ اگر یونین نوٹس کے ذریعے رجسٹریشن کی اطلا ع دے اور عہدیداروں کی فہرست منسلک کرے، رجسٹریشن تک کسی عہدیدار کو ملازمت سے نہ تو فارغ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ٹرانسفر یہ ایک عارضی تحفظ ہے جب کہ رجسٹریشن کے بعد یہ تحفظ حاصل نہیں رہتا ۔
*یونین کی رجسٹریشن کے بعد کسی ادارے میں واحد یونین ہے تو رجسٹرار ٹریڈ یونین سےCBAسر ٹیفکیٹ حاصل کرے اگر اس ادارے میں ایک سے زائد یونین ہے تو رجسٹرار ٹریڈ یونین ریفرنڈم کے ذریعے قانون کے مطابق خفیہ بیلٹ کے ذریعے ریفرنڈم کروائیگا اور CBAیونین کا تعین کیا جائے گا قانون ایسی یونین کو ایمپلائیر کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اس یونین کو تسلیم کرے ۔
*ریفرنڈم کی تمام کارروائی میں ایمپلائر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمین کی فہرست رجسٹرار کو مہیا کرے اور ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے تمام ضروری مواد مہیاکرے اور ریفرنڈ م میں کسی قسم کی مداخلت نہ کر ے اور نہ دباؤ ڈالے۔
*CBAیونین کو یہ اختیار حاصل ہے
(a) undertake collective bargaining with the employer or employers on matters connected with employment, non-employment, the terms of employment or the conditions of work other than matters which relate to the enforcement of any right guaranteed or secured to it or any workman by or under any law, other than the Act, or any award or settlement;
(b) represent all or any of the workmen in any proceeding;
(c) give notice of and declare, a strike in accordance with the provisions of the Act; and
(d) nominate representatives of workmen on the board of trustees of any welfare institutions or Provident Funds and of the workers participation fund established under the Companies Profits (Workers Participation) Act, 1968 (XII of 1968).
*اپنے ممبران کی جانب سے تحریر کردہ اختیار کے مطابق ان کی تنخواہ سے چندہ کٹوتی کر کے یونین کے فنڈ میں جمع کرائے ۔
*CBAیونین ادارے میں ورکرز کی نمائندگی کرنے کی مجاز ہے ۔
*CBAیونین صنعتی تنازع (مطالبات نوٹس) پیش کرنے کی مجاز ہے۔
*ادارے کی انتظامیہ 10دن کے اند ر مطالبات نوٹس پر میٹنگ طلب کر کے معاہدہ کرنے کی پابند ہے۔
*معاہدہ ہونے کی صورت میں دونوں فریق پر لازم ہے کہ وہ معاہدہ کی پابندی کریں اگر دونوں فریق میں سے کوئی فریق معاہدہ کی خلاف ورزی کرے تو متعلقہ فریق لیبر کورٹ میں شکایت داخل کرنے کا مجاز ہے ۔
*CBAیونین معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں صنعتی تنازع متعلقہ مصالحتی افسر کے پاس لے جانے اور ہڑتال نوٹس دینے کی مجاز ہے اور مصالحتی افسر کے پاس معاہد ہ نہ ہونے کی صورت میں CBAیونین صنعتی تنازعہ کو لیبر کورٹ لے جا سکتی ہے یا ہڑتال پر چلی جائے گی یہ ہڑتال قانونی ہوگی۔
*ہڑتال کے دورا ن ایمپلائر کوئی نئی بھرتی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اثاثے منتقل کرنے کا مجاز ہے۔
*معاہدہ کی مدت متعین کرنا فریق کی ذمہ داری ہے اور مدت متعین نہ ہو تو وہ مدت ایک سال سمجھی جائے گی ۔
*اگر آجر ٹریڈ یونین سرگرمیوں کی بنیاد پر مداخلت کرے اور انتقامی کارروائی کا نشانہ بنائے عہدیداراور ورکرز کو لالچ دے ریفرنڈم میں اپنا اثر و رسوخ استعما ل کرے تو اَن فےئر لیبر پریکٹس کی تعریف میں آتا ہے جس کی سزا ہے ایسے عمل پر NIRCیا لیبر کورٹ میں شکایت داخل کی جا سکتی ہے ۔
*اسی طرح سے یونین یا ممبران کوئی غیر قانونی اقدام کریں زبردستی معاہدہ کروانے کے لیے دباؤ ڈالیں اور انڈسٹریل رلیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کریں وہ بھی اَن فےئر لیبر پریکٹس کی تعریف میں آتا ہے جس پر ایمپلائر NIRCیا لیبر کورٹ میں شکایت داخل کر سکتا ہے جس کی سزا ہے۔
*یونین صنعتی تنازعہ کی بنیاد پر صرف ہڑتال کر سکتی ہے کوئی ایسا عمل جو صنعتی تنازعہ کے علاوہ کیا جائے یا ہڑتال کی جائے یا پیداواری عمل میں رکاوٹ ڈالی جائے یہ غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے ۔
*انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ کے تحت CBA یونین اور ایمپلائر اس بات کے مجاز ہیں کہ وہ کسی بھی شکایت اور کسی بھی قانون کے اطلاق معاہدہ کے اطلاق کے لیےNIRCیا لیبر کورٹ میں درخواست داخل کرنے کے مجاز ہیں۔
*انفرادی ورکر کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا تو ایسا ورکر لیبر کورٹ یا NIRCمیں کیس داخل کرنے کا مجاز ہے۔
*یہ ایمپلائر کی ذمہ داری کہ وہ اپنے ادارے میں Shop Steward, Works Council, Worker Management Council, Workers participation in management یہ ادارے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں او ر بہت سے امور ، شکایت مسائل اس کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں لیکن 90فیصد اداروں میں آجر ان اداروں کو قائم کرنے میں نہ کام رہا ہے جب کہ ان اداروں کو قائم نہ کرنے پر سزا بھی ہے ورکر کی جانب سے اگر کسی ادارے میں CBAیونین موجود ہے وہ نامزدگی کا اختیار رکھتی ہے لیکن اگر یونین موجود نہ بھی ہو تو ایمپلائر رولز کے مطابق الیکشن کے ذریعے ورکرز نمائندے شامل کرنے کا مجاز ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر صورت میں اداروں میں یہ Council بنانا ایمپلائر کی ذمہ داری ہے ۔
۔۔۔(باقی آئندہ)۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ