ویب کوپ۔ ایک خواب ایک حقیقت

42

ہم حسین خواب دیکھتے ہیں مگر استقلال کا مظاہرہ نہیں کرتے ہم نے کچھ عرصہ پہلے ایک خواب دیکھا مجید عزیز نے اسے WEBCOP کا نام دیا۔ احسان اللہ خان نے اس کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ لوگوں نے سراہا اور اپنایا لیکن ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے۔ یہ کیوں ہوا کیسے ہوا۔ یہ ماضی کا حصہ ہے اس کو خیر اسے یہیں چھوڑیے اور مستقبل کی جانب دیکھیے۔ میرے نزدیک ویب کوپ ایک تحریک ہے اسے تحریک ہی رہنا چاہیے۔ لیکن اسے ایک تنظیمی ڈھانچہ کی بھی ضرورت ہے تا کہ قانونی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بنیادی طور پر ایک نظریہ ویب کوپ ہے، لہٰذا ہمیں نظریہ کو قائم رکھتے ہوئے تنظیم بنانی چاہیے اس کے لیے ضروری ہے کہ ویب کوپ میں ایک رہبر کمیٹی بنانی چاہیے جس کے ممبر تمام بانی ممبر ہوں جس کی ذمہ داری ویب کوپ کی بنیادی نظریہ، طویل المدت حکمت عملی اور بقائے دوام ہونا چاہیے۔ ویب کوپ کا جو بھی تنظیمی ڈھانچہ بنایا جائے اس کو کونسل رہبران کے ماتحت ہونا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ