خادم اور سرسید

92

تنویر اﷲ خان
قومی اتحاد کی تحریک کے بعد حالیہ دھرنوں میں اتنے بڑے پیمانے پر کسی نکتے پر عوام کی یک سوئی دکھائی دی ہے۔ میری ساری زندگی نعرے لگاتے اور نعرے سُنتے گزری ہے، مجھے پری پیڈ (فوری اجرت کے طالب) اور پوسٹ پیڈ (آخرت کے اجر پر راضی) نعرے لگانے والے حضرات کی آواز، جوش، انداز کا فرق سمجھ میں آتا ہے۔ ٹیکسلا میں بھی اسی سلسلے کے ایک دھرنے میں، مَیں نے جس جوش و جذبے سے بھرے نعرے سُنے، مجھے ان نعروں میں تھوڑی سی بھی فن کاری محسوس نہیں ہوئی۔ دھرنے کے شرکاء دل سے اور دل کو چھونے والے انداز میں نعرے لگا رہے تھے۔
ٹیکسلا جی ٹی روڈ پر واقع ایک شہر ہے، اس شہر سے روزانہ ہزاروں بڑے بڑے مال بردار ٹرک اور اتنی ہی تعداد میں پرائیویٹ گاڑیاں گزرتی ہیں جن کا راستہ اس دھرنے کی وجہ سے بند ہوگیا تھا، لہٰذا پشاور کی جانب اور راولپنڈی کی جانب دھرنے کے دونوں طرف تاحدِّ نگاہ گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ٹرک ڈرائیور اپنی گاڑیوں کے پاس بستر لگائے ہوئے تھے اور پرائیویٹ گاڑیاں راستے کی تلاش میں اِدھر اُدھر تاکا جھانکی کرتی پھر رہی تھیں، لیکن کسی کی زبان پر شکایت نہ تھی، اور نہ ہی ان کے رویّے میں کسی طرح کی جارحیت تھی۔ دھرنے میں انتہائی حاضری پانچ سو کے قریب ہوگی، اسٹیج سے اردو زبان میں بات کی جارہی تھی، جب کہ مجمع میں پشتو، ہندکو بولنے والوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ دھرنے کے آس پاس پی ٹی آئی کی ٹوپی پہنے نوجوان اپنے کام اور کاروبار میں مصروف تھے۔ دھرنے کے مجمع میں جوش ضرور تھا لیکن کسی طرح کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔
تحریک یارسولؐ اللہ نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، اور اس دھرنے کے نتیجے میں پاکستان بھر میں دھرنوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس بڑے عوامی رسپانس کے نتیجے میں اس بات کا خدشہ پایا جاتا ہے کہ خادم حسین رضوی کے دماغ پر لیڈری کا بھوت سوار ہوجائے، لہٰذا بجا طور پر مختلف حلقے اس پر پریشان ہیں۔ ظاہر ہے اپنے خطابات میں جھوٹے قصے بیان کرنے اور بدگوئی کرنے والا کوئی شخص اگر مسلمانوں کا لیڈر بن جائے تو فکرمندی تو بنتی ہے۔
پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ختمِ نبوتؐ کے سوا کوئی اور موضوع ہوہی نہیں سکتا جسے اس طرح کی پذیرائی ملے۔ خادم حسین رضوی ختمِ نبوت کے سوا کسی اور معاملے پر لاہور میں ہی احتجاج کرکے دیکھ لیں، انھیں فرق معلوم ہوجائے گا۔ ختم نبوتؐ کے ان دھرنوں میں صرف بریلوی مسلک کی مذہبی جماعتوں کے لوگ ہی شریک نہیں تھے بلکہ عام سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی شامل تھے، اور جو لوگ کسی وجہ سے باقاعدہ کسی دھرنے میں شریک نہیں بھی ہوئے، اُن کی ہمدردیاں بھی دھرنے والوں کے ساتھ تھیں۔ میں نے ٹیکسلا کے جس دھرنے کا ذکر کیا اُس میں لاکھوں کی آبادی میں سے چند سو لوگ دھرنے میں موجود تھے، لیکن شہر کی پوری آبادی ان کی پشت پر بالکل اس طرح سے تھی جیسے اگلے مورچے پر کھڑے سپاہی کی پشت پر پوری فوج ہوتی ہے، لہٰذا کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان دھرنوں کی پذیرائی خادم حسین کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ خادم حیسن کو ان دھرنوں کی وجہ سے پذیرائی ملی ہے، اور آئندہ بھی کوئی ختم نبوتؐ کو متنازع بنانے کی کوشش کرے گا تو ممکن ہے کہ اللہ خادم حسین سے کم درجے کے آدمی سے کام لے لے۔ تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ ابوجہل نے بیرونِ مکہ سے آئے ہوئے ایک شاعر کو محتاط کیا کہ خبردار محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نہ ملنا، نعوذ باللہ وہ بڑا شاعر اور جادوگر ہے۔ ابوجہل کی یہ تنبیہ کچھ کام نہ آئی بلکہ یہ اُس کے تجسس کو مہمیز دینے کا سبب بنی۔ لہٰذا اللہ جس سے چاہے جوکام لے لے۔ بریلوی کچھ دن بھی مل کر نہیں چل سکتے، بریلویت اسلام میں خود ایک تقسیم کا نتیجہ ہے۔ تقسیم کی کوئی حد نہیں۔ ماضی میں جناب شاہ احمد نورانیؒ کے ہوتے ہوئے جے یو پی عبدالستار نیازی، ظہورالحسن بھوپالی، حنیف طیب میں تقسیم ہوگئی تھی۔ لہٰذا جناب خادم حسین اس دھرنے کو بریلوی ووٹ کی یکجائی میں نہیں ڈھال سکتے۔ تحریک لبیک یارسولؐ اللہ اپنے جنم دن سے ہی اشرف جلالی اور خادم حسین میں تقسیم ہے، شہیدوں کے خون کا سودا کرنے کے الزامات لگنے شروع ہوگئے ہیں، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!
حکومت کو جماعتوں کے ناموں کے سلسلے میں کوئی ضابطہ ترتیب دینا چاہیے۔ مجھے تحریک لبیک یارسولؐ اللہ پر کچھ لکھتے ہوئے کئی بار ایمان کے جانے کا ڈر محسوس ہوا۔ جہاں رسولؐ اللہ کا ذکر آجائے وہاں درود و سلام کے سوا کچھ کہنے پر طبیعت آمادہ نہیں ہوتی۔
ایک اور پہلو پر غور کیجیے۔ عام سنجیدہ پاکستانی خادم حسین کے لیڈر بن جانے پر خائف ہے لیکن اللہ نے اسی خادم حسین کا طمانچہ جناب نوازشریف کے گال پر رسید کیا ہے۔ نوازشریف جو خود کو ایک نظریہ قرار دیتے ہیں وہ خادم حسین کے ہاتھوں ذلت میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اس خفت کو جناب نوازشریف کے سوا کوئی اور محسوس ہی نہیں کرسکتا۔ شاہوں کا کسی کمّی کمین کے ہاتھوں رسوا ہونا اسے کہتے ہیں۔
اب جناب نوازشریف کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جہاں چاہیں، جیسے چاہیں نقب لگاتے رہیں اور مزے کرتے رہیں، ممکن ہے کہ انھیں اپنے اس لالچ اور دُنیا سمیٹنے کی سزا اس دُنیا میں نہ ملے… بلاشبہ یہ دُنیا حتمی اور دوٹوک حساب کی جگہ ہے ہی نہیں، لیکن ختمِ نبوتؐ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس میں بال برابر چوری پر بھی ہاتھ کے ہاتھ حساب ہوجاتا ہے۔ اس معاملے میں معافی نہ پہلے کبھی ملی ہے اور نہ آئندہ اس کی کوئی گنجائش ہے۔
مجھے آج کل سیل فون پر اخبار پڑھنا پڑتا ہے، لہٰذا کوئی طویل مباحث پڑھ نہیں پاتا، لیکن کچھ دنوں سے ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل اور سنڈے میگزین واٹس ایپ گروپ پر سرسید سے متعلق بحث دیکھ رہا ہوں اور جستہ جستہ پڑھ بھی رہا ہوں، اس موضوع سے متعلق اس تکرار سے تحریر، تقریر وغیرہ کا ذکر سُن کر مجھے تشویش ہوئی کہ کراچی میں سرسید سے متعلق اتنا ذکر کیوں ہورہا ہے! لہٰذا میں نے اپنے قریبی لوگوں سے معلوم کیا کہ کیا ہمارے نوجوانوں نے سرسید سے متعلق کوئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں جن کے جوابات کے لیے اتنی گرما گرم بحث جاری ہے، یا کسی عدالت نے سرسید کے کام کا مقام متعین کرنے کا کوئی حکم جاری کردیا ہے کہ ان پر اتنی بات ہورہی ہے؟ تو مجھے معلوم ہوا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔
بھائیو! کیا ہم تاریخ میں ہی الجھے رہیں؟ ڈیڑھ صدی سے واقعہ کربلا کا معمّا حل ہوکر نہیں دے رہا۔ کوئی حسینؓ کو مظلوم قرار دے رہا ہے اور کوئی یزید کو معصوم بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی کا مقصد کیا تھا، اس مقصد کو کیسے زندہ کیا جائے، یہ سب چھوڑ چھاڑ کر تنازعے پر زیادہ بات ہوتی ہے، تاریخ کو کھینچ تان کر سیدھا کرنا ہماری ذمہ داری ہے؟ یا آج کے معاملات کو سیدھا رکھنا زیادہ ضروری ہے؟
سرسید سے متعلق کوئی سوال نہیں ہے، آج کی نسل اس پر کسی تحقیق کا مطالبہ نہیں کررہی۔ پھر اس معاملے پر بات کرکے، اسے مضامین کا موضوع بناکر، اس پر مذاکرے اور سیمینار کرکے کیوں یکسو ذہنوں کو منتشر کیا جارہا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ