سیرتِ محمد ﷺ کی جامعیّت

53

سید سلیمان ندویؒ

محبتِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے ہر مذہب یہی بتاتا ہے کہ اس کے بانی کی نصیحتوں پر عمل کیا جائے۔ اسلام نے ایک بہتر تدبیر بتائی۔ اس نے اپنے پیغمبر کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا اور اللہ کی محبت اس عملی نمونہ کی پیروی سے مشروط کر دی۔
کسی مذہب کے حلقۂ اطاعت میں شامل اشخاص مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں حکمران، رعایا، سپہ سالار، سپاہی، فاتح، مفتوح، جج، مفتی، غریب، دولتمند، عابد، زاہد، مجاہد، اہل وعیال، دوست و احباب، تاجر، خریدار، امام، مقتدی، اْستاد، شاگرد، جوان، بچے، شوہر اور باپ سب شامل ہیں جنہیں عملی نمونے کی ضرورت ہے۔ اسلام اْنہیں اتباعِ سنّتِ نبوی کی دعوت دیتا ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ کی سیرت میں ہر انسان کے لیے نمونہ اور مثال ہے۔
انسان مختلف لمحوں میں مختلف افعال کرتا ہے: چلنا، پھرنا، اْٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، ہنسنا، رونا، پہننا، اْتارنا، نہانا، دھونا، لینا، دینا، سیکھنا، سکھانا، مرنا، مارنا، مہمان بننا، میزبانی کرنا، عبادت، کاروبار، راضی ہونا اور ناراض ہونا، خوش اور غمزدہ ہونا، کامیاب اور ناکام ہونا، شجاعت، بزدلی،غصہ، رحم،سخت گیری، نرم دلی، انتقام، معافی، صبر، شکر، توکل، رضا، قربانی و ایثار، عزم واستقلال، قناعت واستغنا، تواضع وانکساری، نشیب و فراز اور بلند وپست وغیرہ ان تمام افعالِ انسانی اور احساساتِ قلبی کی راہنمائی کے لیے ایک عملی نمونے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا عملی نمونہ جس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی صرف شجاعانہ قوتیں یا سیدنا عیسیٰ علیہ اسلام کا صرف نرم اخلاق ہی نہ ہوں بلکہ یہ دونوں صفات معتدل حالت میں موجود ہوں۔ سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا سلیمان، سیدنا داؤد، سیدنا ایوب، سیدنا یونس سیدنا یوسف اور سیدنا یعقوب علیہم السلام سب کی زندگیاں سمٹ کر محمد رسول اللہؐ کی سیرت میں سما گئی ہیں۔
دنیا میں دو طرح کی تعلیم گاہیں ہیں: ایک وہ جہاں صرف ایک فن جیسے میڈیکل، انجینئرنگ، آرٹ، تجارت، زراعت، قانون یا عسکری تعلیم دی جاتی ہے۔ دوسری یونیورسٹیاں ہیں جو ہر قسم کی تعلیم کا انتظام کرتی ہیں۔ صرف ایک ہی فن اور علم جاننے والوں سے انسانی سوسائٹی مکمل نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ان سب کے مجموعے سے کمال کو پہنچتی ہے۔
آؤ اب اس معیار سے مختلف انبیاے کرام کی سیرتوں پر غور کریں۔ سیدنا موسیٰ علیہ اسلام کی تعلیم گاہ میں صرف فوج کے افسرو سپاہی، قاضی اور کچھ مذہبی عہدیدار ملتے ہیں اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے مکتب میں چند زاہد فقرا فلسطین کی گلیوں میں ملیں گے۔
لیکن محمد رسول اللہؐ کے ہاں اصمحہ حبشہ کا نجاشی بادشاہ، عامر بن شہرؓ ہمدان کا رئیس، بلالؓ جیسے غلام اور سمیّہؓ جیسی لونڈیاں سب ہیں۔ ملکوں کے فرمانروا، دنیا کے جہانبان، عقلاے روزگار اور اسرارِ فطرت کے محرم اس درسگاہ سے تعلیم پا کر نکلے ہیں۔ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں جن کی مشرق سے مغرب تک فرمانروائی اور عدل و انصاف کے فیصلے ایرانی دستور اور رومی قانون کو بے اثر کر دیتے ہیں۔ خالد بن ولید، سعدبن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم دنیا کے فاتح اعظم اور سپہ سالار اکبر ثابت ہوتے ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی ،سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص،سیدہ عائشہ، سیدہ اْمّ سلمہ ،سیدنا اْبی بن کعب، سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہ جیسے فقہا نے دنیاکے قانون سازوں میں بلند درجہ پایا۔
ستر صحابہ اکرام پر مشتمل اہل صفہ جن کے پاس مسجدِنبوی کے چبوترے کے سوا کوئی اور جگہ نہیں تھی، دن کو مزدوری کرتے اور رات عبادت میں گزارتے تھے۔ ابوذر غفاریؓ نے دربارِ رسالت سے مسیحِ اسلام کا خطاب پایا۔ سلمان فارسیؓ زہد و تقویٰ کی تصویر ہیں۔ بہادر کار پردازوں اور مدبّرین میں طلحہ، زبیر، مغیرہ، مقداد اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم ہیں۔ سمیّہ، یاسر اور خبیب رضی اللہ عنہم جیسے بے گناہ مقتول ہیں جنہوں نے جانیں قربان کر دیں مگر حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔ بلال، خباب، عمار، زبیر، سعید بن زید رضی اللہ عنہم جیسے بھی ہیں جنہوں نے کفارِ مکہ کے مظالم برداشت کیے۔
میرے عزیزو! درسگاہیں اپنے شاگردوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ تعلیم انسانی کی ان درسگاہوں کا جن کے اساتذہ انبیا کرام ہیں، جائزہ لیں تو کہیں دس بیس، کہیں ساٹھ ستر، کہیں سو دوسو، کہیں ہزار دوہزار اور کہیں پندرہ بیس ہزار طالب علم آپ کو ملیں گے۔ جب مدرسہ نبوت کی آخری تعلیم گاہ کو دیکھیں گے تو ایک لاکھ سے زیادہ طلبا بیک وقت نظر آئیں گے۔ دوسری نبوت گاہوں کے طلبہ کہاں کے تھے، کون تھے، اْن کے اخلاق وعادات و دیگر سوانح زندگی کیا تھے؟ اس کا کوئی جواب نہیں مل سکتا۔ لیکن محمد رسول اللہؐ کی درسگاہ کے ہر طالب علم کی ہر چیز معلوم ہے۔ اس درسگاہ کے بانی کی دعوت جامع اور عالمگیر تھی کہ نسلِ آدم کا ہر فرزند اور ارضِ خاکی کا ہر باشندہ اس میں داخل ہوا یا داخلے کے لیے اسے آواز دی گئی۔
تورات کے انبیا عراق یا شام یا مصر سے آگے نہیں بڑھے۔ عربوں کے قدیم انبیا بھی اپنی قوموں سے باہر نہیں گئے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے مکتب میں بھی غیر اسرائیلی طالب علم کا وجود نہیں تھا۔ ہندوستان کے داعی آریہ ورت سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اگرچہ بدھ کے پیروؤں نے بدھ مت دوسری قوموں تک پہنچایا مگر یہ عیسائیوں کی طرح بعد کے پیروؤں کا فعل تھا۔
اب ذرا محمد رسول اللہؐ کی درسگاہ دیکھیں: ابوبکر وعمر، عثمان وعلی رضی اللہ عنہم مکے کے، ابوذر اور انس رضی اللہ عنہم تہامہ کے، ابوہریرہ اور ابوموسیٰ اور معاذ رضی اللہ عنہم یمن کے، منذر بحرین کے، عبید رضی اللہ عنہ و جعفر رضی اللہ عنہ عمان کے، فردہ رضی اللہ عنہ شام کے، بلال رضی اللہ عنہ حبشہ کے، صہیب رضی اللہ عنہ روم کے اورسلمان رضی اللہ عنہ ایران کے رہنے والے ہیں۔ پیغمبر اسلام 6ھ میں تمام قوموں کے سلاطین اور حکمرانوں کے نام دعوتِ اسلام کے خطوط بھیجتے ہیں۔ درسگاہِ محمدی میں یہ جامعیّت نمایاں ہے کہ اس میں داخلے کے لیے رنگ، وطن، نسل اور زبان شرط نہیں ہے بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے داخلہ کھلاہے۔
دوستو! آپ نے درسگاہِ محمدی کی پوری سیر کر لی جس میں آپ نے ہر رنگ اور ہر ذوق کے طالب علم دیکھے۔ آپ نے کیا فیصلہ کیا؟ اس کے سوا کیا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اکرمؐ کی ذات انسانی کمالات اور صفاتِ حسنہ کا کامل مجموعہ تھی۔ آپ کا وجودِ مبارک ایک ابرِ باراں تھا جو پہاڑ، جنگل، میدان، کھیت، ریگستان اور باغ ہر جگہ برستا تھا اور ہر ٹکڑا اپنی اپنی استعداد کے مطابق سیراب ہو رہا تھا اور قسم قسم کے درخت اور رنگارنگ پھول اور پتے اْگ رہے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ