تندرستی ہزار نعمت ہے

158

شاہد شکیل
’جان ہے تو جہان ہے‘ ’تندرستی ہزار نعمت ہے‘ کے علاوہ دنیا کی ہر زبان میں صحت کے حوالے سے نہ صرف ضرب الامثال مشہور ہیں بلکہ کئی کتابیں و میگزین شائع ہوچکے ہیں اور آج کے دور میں انٹر نیٹ پر صحت سے متعلق ہر چھوٹی بڑی، عام یا پیچیدہ بیماری اور اس کے علاج کا طریقہ بھی باآسانی دستیا ب ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اچھی صحت کی بدولت ہی انسان طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن دنیا میں کئی افراد صحت اور اس سے منسلک اہم باتوں پر توجہ نہیں دیتے اور معمولی سی غفلت بھی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
گزشتہ دنوں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے ڈاکٹرز نے مشترکہ طور پر انسانی صحت، بیماری، اس کے علاج اور طویل عمر پر تحقیقات کیں، مفید مشورے دیے اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اس بات پر بالخصوص زور دیا کہ چند مفید عادتیں اپنا لینے سے انسان اپنی صحت کے ساتھ دوسروں کی صحت کو بھی خطرات سے بچا سکتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی لوگ بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد ہاتھ نہیں دھوتے جوکئی بیماریوں کی ابتدا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے انسانی جسم میں کئی ان دیکھے جراثیم موجود ہیں جو صفائی نہ ہونے کی صورت میں دوسرے انسان کو چھو لینے سے اس میں منتقل ہو جاتے ہیں اور انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے بیت الخلا استعمال کرنے کے فوراً بعد ہاتھوں کو نارمل صابن سے دھوئیں اور کسی پرفیوم یا اسپرے کا استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ ان مصنوعی مصنوعات میں کئی اقسام کی کیمیکلز اور الکوحل کی آمیزش ہوتی ہے جو صحت کے لیے مضر ہے اور ان سے جراثیم کے پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
پانی سب سے اہم غذا ہے۔ بھوک سے زیادہ انسان کو پانی کی طلب محسوس ہوتی ہے، اس لیے دن میں وقفے وقفے سے 3 لیٹر پانی پینا لازمی ہے کیونکہ انسانی جسم خود محسوس کرتا ہے کہ کب اسے پانی کی ضرورت ہے۔ عام طور پر ہم لوگ در گزر کر جاتے ہیں جو کہ ایک عام غلطی ہے۔ جب جسم کو اس کی معقول غذا یعنی پانی وافر مقدار میں مل جاتا ہے تو تمام اعضا درست کام کرنے لگتے ہیں۔ دوسری صورت میں سر درد کی شکایت رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض کھانا کھانے کے بعد ہی 2 گلاس پانی پی لینے سے انسانی جسم کی پیاس نہیں بجھتی اس لیے 3 لیٹر پانی پینا لازمی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اکثر خواتین بچوں کی پیدائش کے بعد نوزائدہ بچوں کو مارکیٹ میں دستیاب پاؤڈر دودھ کا استعمال کرتی ہیں جو بچوں کی صحت کے لیے مضر ہیں کیونکہ ان میں کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو بچوں کو الرجی یا دیگر بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ بچوں کو کم سے کم 4 ماہ تک اپنا دودھ پلائیں تاکہ وہ صحت مند رہیں۔
سوئیڈن کے ماہرین کا کہنا ہے رات کو دیر سے کھانا کھانے والے افراد اکثر مٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق خواتین رات کو دیر سے کھانا کھانے کو ترجیح دیتی ہیں جس سے وہ مٹاپے میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ ایک دوسرے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ دن میں بار بار مختلف غذائیں استعمال کرنے سے بھی مٹا پا ہو جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے ہر انسان کو وقت پر اتنا کھانا کھانا چاہیے جتنی جسم کو ضرورت ہے اور بھوک نہ ہونے پر بھی کئی لوگ کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہے۔
کینسر کی اسکریننگ بہت سے زندگیاں بچاتی ہے۔کینسر پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کا پتا لگانے کے لیے چھاتی کی اسکریننگ لازمی ہے۔ خواتین اور بالخصوص تمباکو نوشی کرنے والے افراد پر لازم ہے کہ ہر 6 ماہ بعد اپنا مکمل چیک اپ کروائیں۔ ڈین مارک کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے اسکریننگ اور ایکسریز سے بروقت پتا لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیومر کتنا خطرناک ہے اور کون سا علاج موزوں ہے۔
کچی سبزیاں صحت کے لیے مفید ہیں، سبزیوں کو پکانے سے ان کے تمام وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے بشرطیکہ انہیں مکمل طور پر نہ پکایا جائے۔ سبزیوں کو نصف ابال دینے سے ان کے تمام وٹا منز ضائع نہیں ہوتے۔ گاجر ، مولی ، گوبھی وغیرہ کو ابالا جا سکتا ہے اور سلاد کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
سر درد میں پیرا سیٹا مول یا اسپرین استعمال کی جاسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے سر در د کوئی بیماری نہیں کہ دن میں 3یا 4 مرتبہ پیرا سیٹا مول یا اسپرین استعمال کی جائے۔ درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دن میں 2 ٹیبلیٹس استعمال کی جاسکتی ہیں۔یاد رہے کہ ’درد کش‘ ادویہ کے زیادہ استعمال سے جگر اور گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔سر درد سے نجات کے لیے چند گھنٹوں کی نیند یا چائے استعمال کی جاسکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ