سیاہ اُجالا

293

ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی
(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک دن ناشتہ کرتے ہوئے انہوں نے رابیل کے بالوں میں چاندی کا ایک تار چمکتے دیکھا تو ان کو جیسے ایک دم یہ احساس ہوا کہ وہ کتنے بے خبر باپ ہیں جو بیٹی کے تیس سال گھر میں بٹھا کر ضائع کر دیے ۔ ان کی بیوی اگر زندہ ہوتیں تو شاید رابیل اب تک کئی بچوں کی ماں ہوتی ۔ ماں اور باپ کی سوچ میں یہی فرق ہوتا ہے کہ ماں بیٹی کے بڑا ہونے سے پہلے اس کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتی ہے اور باپ کو ان باتوں کا ہوش اس وقت آتا ہے جب بیٹیاں بوڑھی ہونے لگتی ہیں ۔ محبت اور لاڈ کرنے والے باپ بیٹیوں کو دوسرے کے حوالے کر کے سرنگوں نہیں ہونا چاہیے ۔ بالوں میں چمکتی ہوئی چاندی دیکھ کر مرغوب احمد کو احساس ہوا کہ وہ ایک بیٹی کے باپ بھی ہیں ۔ جس کی شادی کی ذمہ داری ان کا فرض ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے میرج بیورو کی خدمات حاصل کیں ۔ اور انہی کے مشورے سے انہوںنے پچاس لاکھ کیش رابیل کے اکائونٹ میں جمع کرا دیا ۔ اپنا اکلوتا بنگلہ بھی اس کے نام کر دیا ۔ میرج بیورو کی طرف سے مرغوب احمد کی بیٹی کی شادی کے لیے خوبصورت اور نو عمر نوجوانوں کی قطاریں لگنے لگیں ۔ سب لڑکوں کا انٹر ویو لینے کے بعد مرغوب احمد نے زاہد سعید کا انتخاب کیا ۔ سعید الدین سے ملنے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ زاہد سعید ہی رابیل کے لیے سب سے مناسب انتخاب ہو گا ۔ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی ۔ شادی کے ایک ہفتے کے بعد ہی رابیل اور زاہد سعید ہنی مون پر سری لنکا چلے گئے ۔ رابیل کے لیے زاہد سعید کی خدمت اور ناز برداری ایک عبادت کا درجہ رکھتی تھی ۔ سری لنکا سے واپسی کے فوراً بعد رابیل نے اپنا بیک بیلنس زاہد سعید کے نام ٹرانسفر کر دیا ۔ پچاس کے بجائے پچپن لاکھ کیش کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد زاہد سعید نے آہستہ آہستہ پر پرزے نکالنے شروع کر دیے ۔ اب وہ کسی مناسب موقع پر مکان کے کاغذات رابیل سے حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ تاکہ اپنا ہدف حاصل کرنے کے بعد کسی نئے پنچھی کی تلاش میں سرگرم ہو جائے ۔ تین ماہ کی چھٹیوں کے بعد رابیل نے اخبار کا دفتر دوبارہ جوائن کر لیا تھا ۔ اس کی ساتھی دوستوں نے شادی کی پر خلوص مبارک باد کے ساتھ اس کو سختی سے تنبیہہ کی کہ زاہد سعید جسے انسان پر کم بھروسہ کرنا ، کیونکہ خوبصورت مرد بہت بے اعتبار ہوتا ہے ۔ اس کے آس پاس منڈلانے الی رنگین تتلیاں اسے اپنی طرف راغب کرتی رہتی ہیں ۔رابیل نے سب کی رائے کو سنا اور لمحہ بھر کو دل میں کپکپاہٹ سی محسوس کی ۔ اسے سری لنکا میں ہنی مون کے دوران زاہد سعید کا مسلسل اصرار یاد آیا ۔ کہ پچاس لاکھ کا اکائونٹ اس کے نام ٹرانسفر کر دیا جائے ورنہ … اس کے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اسی لیے اس نے اپنے ڈیڈی کو بتائے بغیر ان کا وعدہ پورا کرنے کے لیے اپنا تمام بینک بیلنس اس کے نام ٹرانسفر کر دیا ۔ اس چیک کے لینے کے بعد زاہد سعید نے جس گرمجوشی کا اظہار کیا تھا وہ رابیل کے لیے بڑا یاد گار تھا ۔ اور اب تو وہ زاہد سعید کے بچے کی ماں بننے والی تھی ۔ اب وہ کیسے بیوفائی کر سکتا ہے ۔ مگر زاہد سعید کا رد عمل بڑا مختلف ہوا ۔ رابیل نے جب اسے یہ خوشخبری سنائی تو اس کے چہرے پر گھمبیر سناٹا چھا گیا۔ رابیل نے اس کے شانے سے سر ٹکا کر اس کی خوشی کی تصدیق کرنا چاہی تو اس نے نا گواری سے کہا ’’ میں ابھی اس قسم کی پابندیا ںنہیں برداشت کر سکتا ۔ میرا حکم ہے کہ تم جلد سے جلد اس الجھن سے چھٹکارا پا لو ۔ ’’ رابیل کی ساری خوشی کا فور ہو گئی ۔ ماں بننے کی خواہش دم توڑ گئی ۔ ممتا کا وہ خوبصورت احساس جو اس کے وجود کو ماورائی بنا رہا تھا وہ مایوسی اور بے اعتباری کے گھنے جنگل میں کہیں گم ہو گیا ۔ ڈھلتی عمر کا کمزور سا سورج ۔ اپنی روشنی مدھم کرنے لگا ۔ تو وہ کانپنے لگی ۔ مگر وہ ایک سمجھدار اور پڑھی لکھی قلمکار تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ دشوار ترین مرحلے کا واحد حل اس سے پسپائی میں نہیں ہے بلکہ اس پر غور و خوض کرنے میں ہے ۔ وہ حیران تھی کہ شاد ی کے بعد اس پر عجیب عجیب انداز میں یہ کشف ہوا تھا کہ کس سے کس وقت کیسے بات کی جائے شادی سے پہلے وہ احساس کمتری کی ماری ہوئی ایک معمولی شکل و صورت کی لڑکی تھی ۔ مگر اب وہ اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ایک سمجھدار عورت تھی جو عورت کے حق کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی ۔ قلم سے جہاد تو اس کا مشن تھا ہی ۔ وہ اچھی طرح جان چکی تھی کہ زاہد سعید انہی مردوں میں سے ہے جو کسی لالچ یا بڑی ترغیب کے تحت بندھن میں تو بندھ جاتے ہیں گر اس بندھن کی ذمہ داریاں اٹھانے سے کتراتے ہیں ۔ زاہد سعید کا حکم سن کر تو اسے یوں لگا جیسے وہ لق و دق صحرا میں جلتی ریت پر ننگے پائوں کھڑی ہے اور دہکتا سورج اس کے جسم و روح پر آبلے ڈال رہا ہے ۔ پیروں کے نیچے تپتی ریت اسے بے کل کر رہی تھی ۔ مگر اس نے نہایت دانشمندی سے ماں بننے کا خواب اپنی غلط فہمی قرار دی دے ۔ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو ۔ اس نے اپنے آپ کو جھٹلاتے ہوئے زاہد سعید کا موڈ بدلنے کی کوشش کی ۔ زاہد سعید نے پائوں پٹختے ہوئے کہا ’’ ہاں میں نے بتا دیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا ۔ مکان کے کاغذات کے لیے اس کے مطالبے میں شدت پیدا ہو ئی تھی پچپن لاکھ کے عوض جو محبت کے چند لمحات اس نے رابیل کے حوالے کیے تھے وہ بہت کافی تھے ۔ اب جو تلخیاں رابیل برداشت کرنے والی تھی اس کے لیے اس نے اپنے آپ کو پہلے سے تیار کر لیا تھا مگر وہ اپنے آپ کو بے گھر کرنا نہیں چاہتی تھی ۔ پچپن لاکھ سے دستبردار ہونے کی غلطی وہ کر چکی تھی اب ایک کروڑ کے مکان کو و کھونا نہیں چاہتی تھی خواہ اس کے لیے اسے زاہد سعید کی کتنی ہی زیادتیاں برداشت کرنا پڑیں ۔ ہائی کورٹ سے نکلتے ہوئے ایک مرتبہ مرغوب صاحب نے جب زاہد سعید کو ایک گھنے درخت کے نیچے بنچ پر ایک خوبصورت نوجوان وکیل خاتون کے ساتھ قہقے لگاتے دیکھا تو ان کے دل میں خدشات محسوس ہونے لگے۔ شام کو رابیل کے ساتھ چائے پیتے ہوئے انہوں نے اچانک رابیل سے کہا ’’ بیٹا مجھے کل اچانک چالیس لاکھ روپے کی ضرورت پڑ گئی ہے تم چیک بھیج دینا میں واپسی پر بنک سے لیتا آئوں گا ۔ رابیل کا رنگ زرد ہو گیا ۔ اس کے اکائونٹ میں تو پندرہ ہزار روپے باقی بچے تھے ۔ باقی سب زاہد سعید کی نذر ہو چکا تھا ۔

(جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ