تمہیں شاہین بننا ہے 

142

علامہ اقبال نے ایک خواب دیکھا اور اس خواب کو شاعری میں ڈھال کر سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا۔ ان کو بتایا کہ پہلے تمہارے آباؤ اجداد کیسے تھے۔ ایک اللہ کی اطاعت کرنے والے اور رسول ؐ کی سیرت پر عمل کرنے والے تھے۔
تھے وہ آباء تمہارے مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
مگر تمہاری سستی وکاہلی نے تمہیں دنیا میں رسوا کر دیا ہے۔ پھر شکوہ کناں ہوتے ہو کہ
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
ان کی شاعری نے برصغیر بالخصوص نوجوانوں میں وہ انقلاب برپا کیا کہ لاکھ نامصائب حالات آئے۔ جان ومال کی قربانیاں دیں مگر ایک ارضِ وطن حاصل کیا اور علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ وہ حقیقتاً اقبال کے شاہین بن گئے تھے۔ جن میں چٹانوں جیسی مضبوطی تھی۔
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
توشاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ان شاہینوں کی نسلوں کو اسلامی اقدار سے ہٹایا جا رہا ہے۔ انہیں ناچ گانوں کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ دین سے دور کر کے غیر اسلامی رنگ میں رنگا جا رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر دور جاہلیت زندہ ہو جائے۔ اور ہمارے پاس سوائے افسوس کے ساتھ ہاتھ ملنے کے کچھ نا ہو۔
ایسے ٹیلی ویژن پروگراموں پر پابندی عائد کی جائے جو ہمارے معاشرے کو تعفن زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے پروگرام دکھائے جائیں جن سے بچوں اور نوجوانوں کا جزبہ خودی بیدار ہو۔ اور دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کر سکیں۔ اور با ہمت۔ باحوصلہ قوم کے نام سے پہچانے جائیں۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
روبینہ اعجاز، کراچی
rubinaejaz70@gmail.com

Print Friendly, PDF & Email
حصہ