عدالت عظمیٰ سے پہلے بھارتی ہندو انتہا پسندوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا

173

عبدالعزیز
بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کرناٹک میں وشوا ہندو پریشد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام جنم بھومی پر رام مندر ہی بنے گا اور کوئی چیز نہیں بنے گی اور بننے کا وقت بالکل قریب آگیا ہے۔ جب تک بابری مسجد کو شہید نہیں کیا تھا، سنگھ پریوار اور ان کے قبیلے کے سردار کا بیان یہی رہتا تھاکہ وہ بابری مسجد کو گراکر دم لیں گے۔ اس وقت ان کی حکومت مرکز میں نہیں تھی جس کی وجہ سے اقتدار اور طاقت کا نشہ کم تھا۔ تب ایک موقع ان کے ہاتھ آگیا جب نرسہما راؤ وزیر اعظم بنے تو آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنماؤں کو بابری مسجد گرانے میں مرکز اور ریاست دونوں جگہ کے حکمرانوں سے مدد مل گئی اور دن کی روشنی میں بابری مسجد کی تاریخی عمارت کو آناً فاناً گرادیا گیا۔ فوج اور پولیس کا عملہ اس پوری اور کھلم کھلا دہشت گردی کا تماشائی بنا رہا۔ قانون کی حکمرانی کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ دستور اور عدلیہ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ اتر پردیش کلیان سنگھ نے عدالت عظمیٰ میں حلف نامہ پیش کیا تھا کہ وہ بابری مسجد پر آنچ آنے نہیں دیں گے۔ نرسہما راؤ آر ایس ایس کی ذہنیت کے آدمی تھے، لیکن تعلق کانگریس سے تھا مگر سنگھی ذہن ہونے کی وجہ سے انہیں بی جے پی کا پہلا وزیر اعظم کہا جاتا ہے۔

w7a
اب بھارت کی صورت حال پہلے سے زیادہ خراب ہے۔ مرکز میں نریندر مودی ہیں اور ریاست (اتر پردیش) میںانتہا پسند ہندو یوگی ہے۔ دونوں رام مندر تنازع کی پیداوار ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کلیان سنگھ سے بھی زیادہ بڑے اسلام دشمن اور مسلم دشمن ہیں۔ مودی کا اوڑھنا بچھونا بھی اسلام اور مسلم دشمنی ہی ہے۔ ان کی مقبولیت اور شہرت 2002ء کے گجرات فساد کی وجہ سے ہوئی، جس میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور آج تک فسادیوں اور بلوائیوں کو سزا نہیں ملی بلکہ جس نے جتنا بڑا جرم کیا تھا آج اسے اتنا ہی بڑے انعام و اکرام سے نوازا جا رہا ہے۔ ان سب کے پیچھے آر ایس ایس کا تیار کردہ خاکا ہوتا ہے جس میں سارے سنگھی ذہنیت کے لوگ رنگ بھرتے ہیں۔
موہن بھاگوت نے جس طرح کا حالیہ بیان دیا ہے وہ حقیقت میں بھارتی عدالت عظمیٰ کے لیے ایک چیلنج ہے کہ ’’کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا مگر مندر بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیا جائے گا‘‘۔ یہ نہ صرف عدالت عظمیٰ کے خلاف چیلنج ہے بلکہ دستور اورجمہوریت کا بھی کھلا مذاق ہے۔ اس طرح کی بات دنیا میں کہیں نہیں ہوتی۔ یہ معاملات تو بھارت میں جنگل راج کی نشاندہی کررہے ہیں۔ جہاں نہ حکومت ہوتی ہے نہ دستور اور نہ عدلیہ کا وجود ہوتا ہے۔ یہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی فساد اور انارکی کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں اور جو چاہ رہے ہیں کر رہے ہیں ۔ جہاں بھی چاہتے ہیں خواہ ٹرین ہو، بس ہویا شاہراہ ہو ہر جگہ قانون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ موہن بھاگوت کو مودی جی نے دور درشن سے بھی ملک کے شہریوں کو خطاب کرنے کا موقع دینا شروع کیا ہے۔ در اصل یہ بتانے کے لیے کہ ملک میں آر ایس ایس کا راج ہے اور اس کا سربراہ یہاں کا بے تاج بادشاہ ہے۔ اسی بے تاج بادشاہت اور حکومت کا نشہ بول رہا ہے جبکہ بے تاج بادشاہ کو معلوم ہے کہ 5دسمبر سے بابری مسجد کے تنازع کا مقدمہ شروع ہونے والا ہے۔ موہن بھاگوت کا بیان ایک طرح سے حکومت وقت کی ترجمانی ہے۔ اس ترجمانی سے پہلے بالواسطہ شری روی شنکر سے بھی چور دروازے سے پُر امن تصفیے کی بات شروع کی گئی تھی اور اس کا صاف مطلب تھا کہ اگر خوشی سے مسلمان بابری مسجد سے دستبردار نہیں ہوتے تو یہ کام زور زبردستی کرلیا جائے گا یا چور دروازے سے کرالیا جائے گا۔

w7b

معاملہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ میں جو بابری مسجد کے تنازع سے متعلق مقدمہ ہے وہ کس قدر عدل و انصاف کا تقاضا پورا کرے گا وقت ہی بتائے گا کیونکہ سنگھ پریوار عدلیہ پر بھی حاوی ہوتا جارہا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا موقف ہے وہ بالکل صاف اور واضح ہے کہ عدلیہ کا جو بھی فیصلہ ہوگا مسلمان اسے تسلیم کریں گے۔ حالانکہ مسلمانوں کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ مخالف کیمپ کے پاس کوئی دلیل یا ثبوت نہیں ہے، محض کٹ حجتی ہے۔ مسلمانوں کو خواہ کچھ بھی ہو اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ جہاں تک سنگھ پریوار کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا معاملہ ہے اسے بھی حتی الامکان روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کی زبردست خواہش ہے کہ دھونس اور دھمکی دکھاکر مسلمانوں سے معاملہ عدالت کے باہر طے کرلیا جائے۔ ایسے میں مسلمانوں کو اپنا حق ادا کرنا چاہیے اور باقی کام اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ جو چاہے گا وہی ہوگا۔ خواہ کوئی کچھ سازش رچائے یا منصوبہ سازی کرے۔ اس زمین پر ایک ہی کا منصوبہ کام کرتا ہے۔ وہ منصوبہ ہے اللہ تعالیٰ کا جس پر کسی فرد یا جماعت یا حکومت کا ذرہ برابر بھی زور نہیں چلتا۔ یہی مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک یہی رہے گا۔

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہارہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ