فیض آباد دھرنا ختم نہ کرانے پر وزیرداخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس

93
احسن اقبال

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 72 گھنٹوں میں معاملہ حل ہوجائے گا، سمجھ سے بالاتر ہے وزیراعظم یا وزیر عدالت کی حکم عدولی کیسے کرسکتے ہیں۔

جمعہ کو فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں کی گئی۔ ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈر کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا گیا۔ عدالت نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

 عدالت نے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ نے کس اتھارٹی کے تحت کارروائی سے روکا؟ سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر توہین عدالت کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہوگئے۔ چیف کمشنر نے کہا کہ ہمیں حکومت نے کارروائی کرنے سے روکا ہوا ہے وزیر داخلہ نے عدالت میں بھی بتایا تھا کہ انہوں نے روکا ہے۔ حکومت نے اس لئے روکا تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔ عدالت نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے وزیراعظم یا وزیر عدالت کی حکم عدولی کیسے کرسکتے ہیں۔

 جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ یہ عدالتی حکم کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔ اب 29کی بجائے 27 نومبر کو ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش کریں۔ رپورٹ کو ابھی عام نہیں کرینگے رپورٹ میں جن کے نام ہوں گے وہ باہر نہیں جائیں گے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی تو خون خرابہ ہوگا۔ کچھ چیزیں نہیں بتا سکتا۔ چیمبر بلائیں تو تحریری طور پر بتا دونگا۔ ریاست کے مفاد میں سب کچھ کررہے ہیں۔

 جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ابھی تک تو کچھ بھی نہیں ہورہا معاملے کی نزاکت کے باعث سماعت 27 نومبر کو کریں گے اگلی سماعت تک رپورٹ عام نہ کی جائے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کو اگلی پیشی پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی کو سیدھی گولیاں مارنے کا لائسنس نہیں دیا ہے بہت سے لوگ تو آنسو گیس کی شیلنگ سے ہی بھاگ جائیں گے۔ ختم نبوت صرف چند لوگوں کی نہیں پوری امت کی میراث ہے ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں کیس کی مزید سماعت 27نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

حصہ