دھرنے کا محاصرہ کرکے سہولیات بند کی جائیں‘ عدالت عظمیٰ

208
اسلام آباد: تحریک لبیک یارسول اللہ دھرنے کے شرکا نماز ادا کررہے ہیں
اسلام آباد: تحریک لبیک یارسول اللہ دھرنے کے شرکا نماز ادا کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جنسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ دھرنا دینے والوں کا محاصرہ کرکے ان کی سہولیات بند کر دی جائیں لیکن گولیاں نہ برسائی جائیں ۔عدالت کو بتایا جائے کہ دھرنے والوں کے پیچھے کون ہے؟ انہیں کون لے کر آیا اور اس کا فائدہ کس کو مل رہا ہے؟جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 2رکنی بینچ نے دھرنادینے والے افراد کے بارے میں آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں کچھ تو سنجیدگی دکھائیں ،اس سے اچھی رپورٹ تو میڈیا تیار کر سکتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دھرنے سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے ،کل کوئی اور مسئلہ ہوگا تو کیا پھر شہر بند ہوجائیں گے؟ اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ راستہ بند کردیا جائے ؟ایک حوالہ دے دیں، حکومت ناکام نظرآتی ہے، جب ریاست کی رٹ ختم ہو گی تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ فاضل جج نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے ایک بچہ وفات پا گیا، اس کا ذمے دار کون ہے، بچے کی وفات سے میرا دل چکنا چور ہوگیا، میں خود کو ذمے دار سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ د رخت لگانا بھی نیکی ہے لیکن یہ کام کوئی نہیں کرتا،ایسے معاملات سے ہم بھی پریشان ہوتے ہیں مگر گالم گلوچ نہیں کرتے ،اسلام میں کہیں ایسا نہیں لکھا ،یہ سب انا کے لیے ہو رہا ہے ، انااور تکبر سب سے بڑا گناہ ہے ،ہم عام ملک میں نہیں اسلامی ریاست میں رہتے ہیں، بظاہر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کا رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، ہم ان لوگوں سے گھبرا گئے جو اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ شرارت کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مظاہرین پر گولیاں برسائی جائیں اور ملک میں حالات خراب کیے جائیں۔ انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ دھرنا دینے والی جماعت لبیک یا رسول اللہ نے انتخابات میں حصہ لیا اور یہ جماعت اسی نام سے کیسے رجسٹر ہوگئی؟ انہوں نے کہا کہ ذمے داری ریاست اور انتظامیہ کی ہے، ہم آپ کا کام نہیں کریں گے، کیوں کہ پھر آپ ہی شکوہ کریں گے کہ ہمارے کام میں مداخلت ہوئی۔جسٹس فائز عیسٰی نے مزید کہا کہ میڈیا دھرنے والوں کی تشہیر نہ کرے۔آئی ایس آئی کی پہلی رپورٹ تسلی بخش نہیں ہے، دوبارہ رپورٹ دی جائے ۔عدالت نے 30 نومبر تک پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔دوسری جانب حکومت نے دھرنے کے شرکاء کو کھانے پینے کی فراہمی بند کردی ہے‘ مظاہرین کو خوراک پہنچانے والی 10گاڑیاں ضبط کرکے ڈرائیوروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سادہ لباس سیکڑوں اہلکار دھرنے میں شامل ہوگئے ہیں اور خاموشی سے گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔ ادھر حکومت سے مذاکرات کرنے والی علماء کمیٹی کے سربراہ پیر حسین الدین شاہ ایک ماہ کے لیے جنوبی افریقا چلے گئے ہیں۔

حصہ