جب تک حکمرانوں کے دامن پر کرپشن کا داغ ہے پاکستان کا وقار داؤ پر رہیگا‘ سراج الحق

179
اسلام آباد:امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق عدالت عظمیٰ کے باہرمیڈیا سے بات چیت کررہے ہیں
اسلام آباد:امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق عدالت عظمیٰ کے باہرمیڈیا سے بات چیت کررہے ہیں

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جب تک حکمرانوں کے دامن پر کرپشن کا داغ رہے گادنیا میں پاکستان کا وقار داؤ پر لگا رہے گا، ہماری لڑائی کسی فرد کے نہیں ،کرپشن کے خلاف ہے،کرپٹ مافیا کاتعاقب جاری رکھیں گے اور قوم کو ایسا نظام دیں گے جس سے اس بیماری کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے ۔پاناما میں وزیر اعظم کو نااہل قراردیا جانا بہت بڑی بات ہے۔ پاناما کیس میں شامل تمام لوگوں کا احتساب چاہتے ہیں ،احتساب کے بغیر ملک ٹھیک نہیں ہوسکتا۔سب کا احتساب قوم کا مطالبہ ہے ۔ عوام عدلیہ اور پارلیمنٹ مل کرکرپشن کا سدباب کرسکتے ہیں ،ہمارا اصل مقصدکرپٹ سسٹم کا خاتمہ ہے ،اس استحصالی نظام نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو تحفظ دیا ہے اور غریب کو مایوسیوں اور پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔جماعت اسلامی ہمیشہ درست ٹریک پر چلتی رہی ہے ،ہمارا اختیار کردہ ٹریک ہی قومی سلامتی اور ملکی خوشحالی کا ضامن ہے ۔ کرپٹ لوگوں نے مختلف پارٹیوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔اب ان جماعتوں کو بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کو مزید برداشت کرنے کے بجائے انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر کریں۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاناما لیکس میں ملوث دیگر 436لوگوں کے احتساب کے حوالے سے عدالت عظمیٰ میں اپنی درخواست کی سماعت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امرا جماعت اسلامی اسداللہ بھٹو ایڈووکیٹ ،میاں محمد اسلم اور دیگر بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپشن کے خلاف ہماری جدوجہد کا ہدف کسی ایک فرد کی ذات نہیں۔ کچھ لوگ کرپشن کے خلاف ہماری جدوجہدکو ذاتی رنگ دے کرمحدودکرنے کی کوشش کررہے ہیں اور عوام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہماری لڑائی محض حکومتی زعما کے ساتھ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں مگر ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ پہلے ان لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے جنہوں نے حکومتی اختیارات کو عوام کی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم کی طرح دوسروں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تاکہ کسی کویہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ کسی خاص فرد کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کو لوٹنے والا کوئی اقتدار میں ہویا اقتدار سے باہر اسے ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا خیال ہے کہ وہ لوٹ مار کے بعدبچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور پاناما کیس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا وہ کچھ دن انتظار کریں ،مجھے یقین ہے کہ عدالت قوم کو مایوس نہیں کرے گی اور لٹیروں کا محاسبہ ضرور ہوگا۔سراج الحق نے کہا کہ حکومتی عہدیداروں نے سرکاری حیثیت کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی سیڑھی بنا رکھا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ جس نے پاکستان کو لوٹا ہے اسے اقتدار کے ایوانوں کے بجائے اڈیالہ جیل میں ہونا چاہیے ،لٹیروں سے قومی دولت واپس لینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کرپٹ لوگوں نے جھنڈے اور پارٹیاں تبدیل کی ہیں مگر کام سب کا ایک ہے اور وہ قومی دولت کولوٹنا ہے۔ پاناما لیکس میں حکمران پھنس گئے ہیں۔ عوام کے پاس موقع ہے کہ اپنے مستقبل، کرپشن فری اور گرین پاکستان کے لیے ہمارے ساتھ ملیں۔ کرپشن کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ میں مقدمہ کرنا کسی کو ذلیل کرنا نہیں ہے۔ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں قرآن کی بالادستی ہو اور بیرون ملک گرین پاسپورٹ کی عزت ہو جب تک حکمرانوں کے دامن پر کرپشن کا داغ رہے گادنیا میں پاکستان کا وقار داؤ پر لگا رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو کرپٹ مافیا سے آزاد کرانے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

حصہ