پی آئی اے میں مفت ٹکٹوں کے فراڈ کا انکشاف، انتظامیہ بے خبر

149

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پی آئی اے میں ناتجربے کار انتظامیہ کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ فراڈ مافیا نے ناتجربے کار انتظامیہ کو بے وقوف بنادیا ۔ جعلسازی کے ذریعے بڑے پیمانے پر پی آئی اے میں مفت ٹکٹوں کے اجرا کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے جس کی انتظامیہ کو کوئی خبر ہی نہیں ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس فراڈ کے ذریعے اب تک پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ اس اسکینڈل میں پی آئی اے کے ملازمین ٹریول ایجنسیوں کی ملی بھگت سے دوسری ائر لائنوں کے نام پر مفت ٹکٹ جاری کرتے تھے جس کے بعد ٹکٹ کی رقم ٹریول ایجنسی اور پی آئی اے کے ملازمین مسافروں سے وصول کردہ رقم آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ اس فراڈ کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جمعرات کو لاہور سے جدہ جانے والی پی آئی اے کی صرف ایک پرواز میں 28 مسافروں کو دو طرفہ ٹکٹ جاری کیے گئے تھے۔ یہ ٹکٹ برطانیہ کی ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے جاری کیے گئے تھے۔ ان میں سے 5ٹکٹ ائربرونائی کی دستاویزات پر جاری کیے گئے ۔ پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور جدہ سیکٹر پر پی آئی اے کا ائر برونائی کے ساتھ کوئی معاہدہ ہی نہیں ہے ۔ اس کے باوجود یہ ٹکٹ جاری کردیے گئے ۔ اس کیس کی بروقت اطلاع کے باوجود پی آئی اے کی انتظامیہ صرف 10 ایسے مسافروں کو مفت سفر کرنے سے روک سکی جبکہ بقیہ 18 مسافر پرواز کرگئے ۔ پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں ۔پی آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ان برطانوی ایجنسیوں کو ڈی لنک کردیا ہے جبکہ ان کی پاکستانی پارٹنر کمپنی جو کھاریاں سے آپریٹ کررہی تھی اس پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ پی آئی اے سے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر وصول کرنے والی امریکی آئی ٹی کمپنی سیبر بھی اس فراڈ کو پکڑنے میں ناکام رہی۔ واضح رہے کہ اس وقت پی آئی اے کے انتظامی سربراہ ڈاکٹر مشرف رسول سیان ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں ، چیف آپریٹنگ آفیسر ضیا قادر قریشی پاکستان میں ایل این جی کمپنی کی ڈسٹری بیوشن سے متعلق ایک چھوٹی سی کمپنی میں ملازم تھے ۔ وہ 60 برس کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے باوجود پی آئی اے میں موجود ہیں۔ اسی طرح مارکیٹنگ کے سربراہ چیف کمرشل آفیسر بلال شیخ بھی موبائل سروس فراہم کرنے والی ایک کمپنی سے 2 سال پہلے تک وابستہ رہے۔ اس کے بعد ان کا تجربہ سافٹ ویئر بنانے والی ایک چھوٹی سی فرم کا ہے ۔ ان تینوں اہم عہدوں پر فائز افسران کا کبھی ایوی ایشن سے کوئی تعلق نہیں رہا اس کے باوجود وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں پی آئی اے میں اہم ترین ذمے داریاں سونپ دیں ۔ ناتجربے کار افراد کے قومی فضائی کمپنی میں اہم عہدوں پر تقرر کوماہرین پی آئی اے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کی سرکاری سازش قرار دیتے ہیں ۔

حصہ