حافظ سعید کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد‘ رہائی کی سفارش

100
لاہور: حافظ محمد سعید جوڈیشل ریویو بورڈ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
لاہور: حافظ محمد سعید جوڈیشل ریویو بورڈ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت)لاہور ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی میں مزید توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی رہائی کی سفارش کر دی ہے۔بورڈ کے اس فیصلے سے تقریبا 10ماہ سے لاہور میں نظر بند جماعت الدعوۃ کے امیر کی رہائی ممکن ہو پائے گی۔حافظ سعید کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالت نے ان کے 4ساتھیوں کی نظر بندی ختم کردی ہے جبکہ ان کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں اور انہیں بلاجواز غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں امریکا کے کہنے پر نظر بند کیا گیا کیونکہ امریکا نے پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی جبکہ کسی قانونی جواز کے بغیر ان کی نظر بندی آئین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان کی پابندی کو کالعدم قرار دے۔اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید کے 4ساتھیوں کی نظر بندی ختم ہونے سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے، اگر حافظ سعید کی نظر بندی ختم کی گئی تو عالمی امداد بند ہونے اور پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں 3رکنی ریویو بورڈ نے سماعت کے دوران سرکاری وکلا کے دلائل سننے کے بعد حافظ سعید کے خلاف حکومت کی جانب سے واضح ثبوت فراہم نہ کیے جانے کی بنیاد پر ان کی نظر بندی کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ سنایا۔نظر ثانی بورڈ کا فیصلہ سنتے ہی کارکنان پرجوش ہو کر نعرے بازی کرتے رہے اور انہوں نے حافظ سعید پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ سعید نے کہا کہ کشمیریوں کی جدو جہد ضرور رنگ لائے گی، میرے خلاف ثبوت پیش نہ ہونے سے امریکا اوربھارت کو منہ کی کھانی پڑی جبکہ آزاد عدلیہ نے دلیرانہ فیصلہ دیا جسے سراہتے ہیں۔یاد رہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی میں گزشتہ ماہ کی جانے والی ایک ماہ کی توسیع 23 نومبر کو ختم ہو جائے گی۔