چیئرمین سینیٹ اور حافظ حمداللہ میں حلقہ بندیوں میں ترمیم پر شدید جھڑپ

97

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کے درمیان نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم پر بات کرنے کی اجاز ت نہ دینے پر شدید جھڑپ ہوگئی، حافظ حمد اللہ نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک التواء پر بحث جاری تھی کہ حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کھڑے ہوکر چیئرمین سینیٹ سے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیمی بل ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود منظور نہ کرنے کے حوالے سے بات کرنے کی اجازت مانگی، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تحریک پر بحث ختم ہونے کے بعد کسی دوسرے معاملے پر بات کرنے کی اجازت ملے گی جس پر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ آپ گارنٹی دیں کہ مجھے بات کرنے کی اجازت دیں گے ۔چیئرمین سینیٹ نے گارنٹی دینے سے انکار کردیا اور انہیں نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی مگر حافظ حمد اللہ نے بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں جو ایوان میں چپ کر کے بیٹھے رہیں ، اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے ہمیں بھی بتا یاجائے ۔نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم پر چیئرمین سینیٹ ، قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر بات کر چکے ہیں ہمیں اس معاملے پر بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ۔ حافظ حمد اللہ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی ایک جماعت کے کہنے پر ایوان کی کارروائی نہ چلائیں ، یہ دیگر جماعتوں کا بھی ایوان ہے ، کوئی ایک جماعت اپنی اکثریت کے بل بوتے پر قانون سازی روک کر شرائط نہیں منوا سکتی ،جو بھی سودا ہورہا ہے اس میں ہمارا بھی حصہ ہونا چاہیے۔ اس دوران رضا ربانی حافظ حمد اللہ کو وارننگ دیتے رہے اور اپنی نشست پر تشریف آوری کا کہتے رہے ۔ ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر سینیٹر حافظ حمد اللہ نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے ۔ ایوان میں نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں ترمیمی بل دوتہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوسکا۔

حصہ