پنگریو ،عارضی اساتذہ سے دوبارہ ٹیسٹ لینا نا انصافی ہے، اساتذہ تنظیمیں

13

پنگریو (نمائندہ جسارت) محکمہ تعلیم سندھ کے ذیلی ادارے ریفارمرز سپورٹ یونٹ کی جانب سے این ٹی ایس اور سندھ یونیورسٹی پاس سندھ کے اکیس ہزار سے زائد عارضی اساتذہ کو مستقل کر نے کے لیے ان اساتذہ سے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے لیے سیکرٹری تعلیم سندھ کو سمری بھیجنے پر عارضی اساتذہ میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور عارضی اساتذہ نے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے مجوزہ فیصلے کیخلاف احتجاج کر نے اور اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنا شروع کردیا ہے جبکہ سندھ کے پرائمری اور سیکنڈری اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (پ ٹ الف) اور گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن(گسٹا) نے بھی اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کنٹریکٹ ٹیچرز کو غیر مشروط طور پر ریگولر کر نے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ میں این ٹی ایس، سندھ یونیورسٹی اور اقرا یونیورسٹی پاس اکیس ہزار سے زائد کنٹریکٹ ٹیچرز میں سے اقرا اور سندھ یونیورسٹی پاس ٹیچرز کا کنٹریکٹ ختم ہوچکا ہے اور یہ اساتذہ عدالتوں کے اسٹے آرڈرز اور محکمہ تعلیم کے رحم وکرم پر ملازمتیں کر رہے ہیں اور ان کے سروں پر ہر وقت ملازمت ختم کیے جانے کی تلوار لٹک رہی ہے جبکہ این ٹی ایس پاس کنٹریکٹ ٹیچرز کا کنٹریکٹ پیرڈ دسمبر میں (آئندہ ماہ) ختم ہو رہا ہے۔ این ٹی ایس پاس کنٹریکٹ ٹیچرز کی تنخواہیں دسمبر سے بند کر نے کے لیے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کی جانب سے محکمہ تعلیم اور محکمہ خزانہ کے حکام کو وارننگ لیٹر بھی ارسال کیا جاچکا ہے۔ اس معاملے پر محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ریفارمرز سپورٹ یونٹ(آر ایس یو) کی جانب سے سیکرٹری تعلیم سندھ کو سمری ارسال کر کے کنٹریکٹ ٹیچرز کا کنٹریکٹ پیرڈ بڑھانے یا انہیں ریگولر کر نے کی درخواست کی گئی ہے۔ سمری کے مطابق اساتذہ کو ریگولر کر نے کے لیے ان اساتذہ سے دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ میں پاس ہونے والے اساتذہ کو ہی ریگولر کیا جاسکے گا جبکہ ٹیسٹ میں فیل ہونے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ سمری کے باعث سندھ کے کنٹریکٹ ٹیچرز میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور کنٹریکٹ ٹیچرز نے دوبارہ ٹیسٹ لینے کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر آنے اور عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لائحہ عمل طے کر نے کے لیے کنٹریکٹ اساتذہ کے رہنماؤں کا اجلاس 26 نومبر کو جامشورو میں طلب کیا گیا ہے۔

حصہ