پاکستان نے گوادر میں چینی کرنسی کے استعمال کا مطالبہ مسترد کردیا‘کسٹمز نگرانی کی منظوری

188
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ سی پیک سے متعلق مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ سی پیک سے متعلق مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد(خبرایجنسیاں) پاکستان نے چین کا گوادر فری زون میں چینی کرنسی یوان استعمال کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیاجبکہ سی پیک کے راستے پر کسٹمز نگرانی کے علاقے قائم کر نے کی اجازت دے دی۔منگل کوپاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق مشترکہ تعاون کمیٹی کا وزارتی سطح کا 7 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور متعدد کی منظوری دی گئی۔ منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر احسن اقبال اور ان کے چینی ہم منصب نے مشترکہ طور پر اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ،آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم او ر پاکستان اور چین سے 150اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ایوان صنعت وتجارت سمیت نجی شعبے کے نمائندوں نے پہلی بار اجلاس میں شرکت کی۔ چینی حکام نے گوادر میں چینی کرنسی کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یوان کے استعمال سے ایکسچینج سے جڑے خطرات سے بچاجاسکتا ہے۔انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستان سی پیک کے راستے پر کسٹمز نگرانی کے علاقے قائم کرے جسے پاکستان نے تسلیم کرلیا ۔ وزارت مالیات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چین کی گوادر فری زون میں چینی کرنسی استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کی۔ پاکستان نے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی اقتصادی اقدار کی خلاف ورزی ہوگی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ27ارب ڈالر کے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں آچکے ہیں، زراعت کے لیے چین کے ساتھ ورکنگ گروپ قائم کیا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ تعاون کی بنیاد رکھی ہے ، گوادر کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے پر اتفاق ہوا ہے ،وزیر اعظم آج گوادر میں سمندر پر پل کا افتتاح کریں گے جبکہ اگلے سال کے پہلے حصے میں گوادر ائر پورٹ کی تعمیر شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی اڑان بھر چکا اب اسے کوئی کریش نہیں کرسکے گا ۔علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ وفاق نے بغیر پوچھے حطار میں صنعتی زون کی تجویز دی لیکن وفاق کی مرضی نہیں چلے گی ،ہمیں گریٹر پشاور ٹرین اور پشاور طورخم ریلوے لائن کو سی پیک میں شامل کرنے اور گلگت چترال روڈ اور مانسہرہ چترال روڈ بھی سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے ۔