عدالت عظمیٰ نے دھرنے کا نوٹس لے لیا‘ دفاع و داخلہ سیکرٹریز اور اٹارنی جنرل سے جواب طلب

91
راولپنڈی: فیض آباد میں تحریک لیبک یا رسول اللہ کے دھرنے کا منظر
راولپنڈی: فیض آباد میں تحریک لیبک یا رسول اللہ کے دھرنے کا منظر

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر جاری دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئیسیکرٹری دفاع‘ سیکرٹری داخلہ ، اٹارنی جنرل، آئی جی اسلام آباد اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل سے کل رپورٹ طلب کرلی ہے۔عدالت عظمیٰ نے یہ نوٹس ایک مقدمے کی جاری سماعت کے دوران وکلا کے مقررہ وقت پر عدالت نہ پہنچنے پر لیا۔مقدمے میں وکیل ابراہیم ستی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دھرنے کے باعث وہ اپنے آفس نہیں پہنچ سکے تھے جس کی وجہ سے کیس کی تیاری نہیں کی جاسکی۔اس پر مقدمے کی سماعت کرنے والے جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 14 عوام کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔فیض آباد دھرنے پر انہوں نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے کہ اس پر عمل درآمد کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دھرنے کے باعث آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 19 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کون سی شریعت راستے بند کرنے اور لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت دیتی ہے؟ دھرنے میں استعمال کی گئی زبان کی کون سی شریعت اجازت دیتی ہے؟عدالت نے انتظامیہ کو 2 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو جمعرات تک بتایا جائے کہ دھرنے کے خاتمے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟دورانِ سماعت عدالتِ عظمیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی طلب کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ وہ خود صبح 8 کے بجائے 6 بجے گھر سے نکلتے ہیں تاکہ وقت پر عدالت پہنچ سکیں۔

حصہ