محمد عامر نے ورلڈ کپ 2019 میں دھوم مچانے کی ٹھان لی

106
Mohammad Amir ، file photo

فاسٹ بالر محمد عامرکا کہنا تھا کہ پابندی کی وجہ سے ورلڈ کپ 2011اور 2015 نہ کھیل پانے کا افسوس ہے،آئندہ ایونٹ میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنی کارکردگی سے گہرا تاثر چھوڑنا چاہتا ہوں۔

کرک انفو کو انٹرویو میں محمد عامر نے کہا کہ میں تینوں فارمیٹ میں اپنی ذمہ داریوں سے انصاف کرنے کیلئے ٹریننگ کے سخت شیڈول پر عمل پیرا رہتا ہوں،پیسر نے مزید کہا کہ دائرے کے اندر فیلڈرز کھڑے کرنے کا قانون متعارف کرائے جانے سے بولرز کو اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کیلیے نئی ورائٹیز پر کام کرنا پڑا،کھیل میں اس قدر تیزی آنے کی وجہ مختلف ملکوں میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگز بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ کرکٹ پہلے سے بہت زیادہ مشکل اور محنت طلب کھیل ہوگیا ہے۔

مکی آرتھر کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں شارٹ لینتھ گیندوں کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہ رہنے کے سوال پر محمد عامر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم بیک کے وقت زیادہ فرسٹ کلاس میچز نہ ملنے کی وجہ سے میں ابتدا میں شارٹ گیندیں زیادہ کرتا تھا، بعد ازاں بہتری لانے کی کوشش کی اور مثبت نتائج بھی حاصل ہوئے، ویسٹ انڈیز میں زیادہ کامیابی ملی،اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ ایک ڈیڑھ سال میں ٹیسٹ میچز کے دوران میری بولنگ پر 16کے قریب کیچز بھی ڈراپ ہوئے،ایسا نہ ہوتا تو میرا ٹیسٹ ریکارڈ خاصا بہتر نظر آتا،ہم کسی کو الزام نہیں دے سکتے، کوئی فیلڈرنہیں چاہتا کہ کیچ چھوڑ دے۔

حصہ