اوبر کمپنی کے 5.7 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری

59

معروف کمپنی اوبر کی جانب سے جاری بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ہیکرز 2016 کے دوران کمپنی کا ڈیٹا بیس ہیک کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں 5.7 کروڑ اوبر صارفین اور کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے ڈرائیوروں کے بارے میں معلومات چوری کر لی گئی۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہیکنگ کی کارروائی تھڑڈ پارٹی کےCloud سروس اکانٹ کو استعمال میں لاتے ہوئے 2 ہیکروں کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔ اس دوران امریکا میں 6 لاکھ ڈرائیوروں کے ناموں اور ڈرائیونگ لائسنس کے سیریل نمبروں کے علاوہ اوبر سروس استعمال کرنے والے صارفین کے نام ، ای میل پتے اور ان کے موبائل نمبروں کو چوری کیا گیا۔

کمپنی کے بیان کے مطابق ایسا نظر نہیں آتا کہ کارروائی میں کریڈٹ کارڈ ، بینک اکانٹ یا سوشل سیکیورٹی کے نمبروں یا تاریخ پیدائش تک رسائی حاصل کی گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثرہ ڈرائیوروں کو ان کے نجی کریڈٹ اکانٹس میں مفت بیلنس فراہم کیا جائے گا اور اس کے علاوہ شناخت کی چوری کے خطرے سے بچا کے لیے تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی نے ہیکروں کو ایک لاکھ ڈالر کے قریب تاوان ادا کیا تا کہ وہ ڈیٹا حذف کر دیں اور ہیکنگ کی کارروائی کا اعلانیہ اظہار نہ کریں۔

واضح رہے کہ کمپنی کی جانب سے واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

اوبر کمپنی کے بیان کے مطابق “واقعے کے پیش آنے کے فوری بعد ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی گئے۔ بعد ازاں ہیکروں کو شناخت کر لیا گیا اور کمپنی میں سکیورٹی انتظامیہ کو اس امر کی تصدیق ہو گئی کہ ڈاون لوڈ کیا جانے والا تمام ڈیٹا حذف کر دیا گیا”۔ البتہ بیان میں ہیکروں کو بطور تاوان ادا کی جانے والی رقم کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔