دھرناانتظامیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے‘ اسلام آباد ہائیکورٹ

335
اسلام آباد: مذہبی جماعت کے شرکاء فیض آباد میں دھرنے کے دوران نعرے بازی کررہے ہیں
اسلام آباد: مذہبی جماعت کے شرکاء فیض آباد میں دھرنے کے دوران نعرے بازی کررہے ہیں

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے کو انتظامیہ کی ملی بھگت اور نا اہلی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ پیر کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیس کی سماعت کے دوران شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت کے حکم پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکرٹری داخلہ پیش ہوئے۔احسن اقبال نے عدالت کواپنی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا اسلام آباد انتظامیہ میری زیرنگرانی ہے اور میں نے ہی انتظامیہ سے کہا کہ پرامن طریقے سے حل نکالنا ہے جس کی ذمے داری قبول کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے خونریزی کا خدشہ ہے، کوشش کر رہے ہیں پر امن طریقے سے مذاکرات کر کے فیض آباد انٹرچینج کو خالی کرایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ علماء اور مشائخ نے بھی کوششیں شروع کی ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ربیع الاول میں کوئی کشیدہ صورتحال ہو۔ عدالت نے وفاق کی جانب سے سماعت چیمبر میں کرنے کی استدعا مسترد کردی اور کہا کہ خفیہ باتوں اور رپورٹس کا دور ختم ہوگیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا معاملہ حساس نوعیت کا ہے، کھلی عدالت میں نہیں بتا سکتے۔ عدالت نے کہا قوم کو خطاب کر کے بتائیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا، یہاں تاجروں ، طلبہ اور مریضوں کا کیاقصور ہے۔ وزیر داخلہ نے دھرنا ختم کرانے کے لیے مزید 48 گھنٹے کی مہلت مانگی جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا حکومت 48 گھنٹے میں جو کرنا چاہتی ہے کر لے۔جسٹس شوکت نے ریمارکس دیے کہ بطور جج لاکھوں لوگوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہوں، دھرنے والے اتنی اہم جگہ تک کیسے پہنچے، یہ سمجھ سے بالا تر ہے، غرض نہیں دھرنے والے سیاسی، سیکولر یا مذہبی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، عدالت کو صرف غرض ہے کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیے کہ ناموس رسالتﷺ پوری امت کا مسئلہ ہے جس پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا لیکن یہ کسی ایک گروہ کا مسئلہ نہیں، یہ محض مذہبی جماعت نہیں سیاسی پارٹی بھی ہے جو الیکشن میں حصہ لے چکی ہے۔فاضل جج نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سے کسی کو نہیں روکیں گے، یہ ان کا آئینی حق ہے تاہم دھرنا دینے والوں کو احتجاج کے لیے مختص جگہ پر بھیجا جائے۔عدالت نے سماعت جمعرات 23 نومبر تک ملتوی کردی ۔عدالت نے 3صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ 8لاکھ شہریوں کے حقوق کی محافظ ہے ، شہریوں کو اہم مقام پر دھرنا دینے والوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ۔ اسلام آباد انتظامیہ کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہیے ۔ کسی شخص یا گروہ کو کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ آئینی عدالت کا حکم نہ مانے،یہ عدالتی اختیارات کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان پنجاب ہاؤس میں ڈھائی گھنٹے تک جاری مذاکرات کا چھٹا دور بھی ناکام رہا۔دوسری جانب ن لیگ راولپنڈی کی قیادت نے دھرنے کے شرکاء کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کردی ہے۔علاوہ ازیں علماء ومشائخ کے اجلاس میں راجاظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد احسن اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے کاغذات نامزدگی کے فارم سے ختم نبوت کے حلف نامے کو نکالنے کے معاملے پر پیر حسین الدین شاہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی میں تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء و مشائخ شامل ہوں گے ،کمیٹی معاملے کی تحقیقات کرکے حکومت کو سفارشات پیش کرے گی،کمیٹی کے سامنے راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی اور جو بھی اس معاملے میں ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔