قرآن حکیم کی تدریس کیلیے تربیت یافتہ اساتذہ کا تقررکیاجائے‘تنظیم اساتذہ

63

لاہور (نمائندہ جسارت )ملک بھر کے اساتذہ نے تعلیم کو ترجیح اوّل بنا کر قومی آمدنی کا5 فیصد بجٹ مختص کرنے،تعلیم کی نجکاری بند کرنے، اُردو کو عملی طور پر قومی زبان بنانے اورنئی تعلیمی پالیسی وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ لاہور میں تنظیم اساتذہ کے زیر اہتمام منعقدہ قومی تعلیمی کانفرنس کے شرکا نے کیا۔شرکائے کانفرنس نے قرآنِ حکیم کی تعلیم لازمی قراردینے پر حکومت کو مبارک بادپیش کی۔حکومت قرآن حکیم کی تدریس کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کا تقررکرے اور اسے گلگت بلتستان ، آزاد جموں کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں کے نصاب تعلیم کا حصہ بنا کر رائج اور نافذ کیا جائے۔18ویںآئینی ترمیم میں تعلیم کے مقدس فریضے کا قبلہ تبدیل کرکے اسے انڈسٹری اور مال کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ ایک نئی ترمیم لاکر اسے انسانیت کی فلاح و بہبودکا ذریعہ بنایا جائے۔18ویں ترمیم میں تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرکے قومی سوچ و یکجہتی کو خطرات سے دوچار کردیا گیا ہے جس کے عملی مظاہرصوبائیت و لسانیت کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ تعلیم کودوبارہ وفاق کے کنٹرول میں دیا جائے ۔ کانفرنس میں منظور کردہ دیگرسفارشات اور قراردادوں میں مطالبہ کیا گیاکہ سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات کو بہتر بنا کر ان کو عالمی معیار کے برابر لایا جائے۔بچوں کو اردو میں تعلیم دے کر انہیں ذہنی وفکری غلامی سے نجات دلائی جائے۔ قومی افکار و نظریات ٗ اخلاق واقدار پرمبنی نئی تعلیمی پالیسی وضع کی جائے۔ پرائمری ٗ سیکنڈری سطح ٗ کالجز اور یونیورسٹی، ہر سطح پراساتذہ ٗ طلبہ اور والدین کی آرا و تجاویزکو شامل کیا جائے۔تعلیم کو غیر ملکی دباؤ سے آزاد رکھا جائے۔ قومی تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے آزاد و خود مختار تعلیمی کمیشن بنایا جائے۔ درس گاہوں کو سیاسی و بیرونی مداخلت سے پاک رکھا جائے۔ میرٹ اور معیار پر داخلوں اور بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے ۔ حکومت پنجاب نے کچھ اضلاع کے تعلیمی اداروں کے اندر حالیہ ایام میں 1 تا 4اسکیل کی خالی اسامیوں پرایم پی ایز اور ایم این ایز کے ذریعے بھرتی کرنے کا پروگرام بنایا ہے جو میرٹ کی خلاف ورزی ہے۔ایسے اقدامات کو ختم کرکے میرٹ کی بالا دستی قائم کی جائے ۔ طبقاتی نظامِ تعلیم کے خاتمے کے لیے یکساں نظامِ تعلیم رائج کیا جائے ۔ نجکاری کا سلسلہ بند کیا جائے اورنجی تعلیمی اداروں کو اس نظام اوران قوانین کا پابند بنایا جائے جن کا اطلاق سرکاری اداروں پر ہو رہا ہے۔مخلوط نظامِ تعلیم کا خاتمہ کرتے ہوئے عورتوں ٗمردوں کے الگ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں ۔ جامعات میں طلبہ کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہورہی ہے۔ہیومین ریسورس کا یہ چیلنج اور یہ صورتحال اہلِ علم کے غور و فکر کو دعوت دیتی ہے۔چنانچہ طالبات کے اداروں میں اضافے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے والے رجال کی کم ہوتی تعداد کا تدارک کیا جا سکے۔ اساتذہ کی تکریم اور ان کے معاشرتی مقام کو بلند کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

حصہ