نیپرا ایکٹ‘ حکومت کو سرچارج لگانے کا اختیار دینے والی شق مسترد

48

اسلام آباد (آئی این پی ) قومی اسمبلی نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو ریگولیٹ کرنے کا (ترمیمی)بل 2017ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی،حکومتی ارکان کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے سبکی کا سامنا کرنا پڑا، توانائی کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومت کو سرچارج لگانے کا اختیار دینے والی شق کو ارکان نے کثرت رائے سے مسترد کر دیا جبکہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ بل کے تحت نیپرا ایکٹ میں ترمیم اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، بجلی کے صارفین سے زائد بلوں کے اجرا میں ملوث افسران کو 3سال تک سزا ہو سکے گی، ملک میں اربوں روپے کی زائد بلنگ کی جاتی ہے، توانائی کی پالیسی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی جائے گی، نیپرا کو مضبوط کیا جا رہا ہے، غلط بلوں کی تحقیقات کا اختیار نیپرا کو دیا جائے گا، حکومت اور نیپرا کے اختیارات کا واضح تعین کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کے ارکان سید نوید قمر، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری اور دیگر نے بل کو عجلت میں منظور کرانے پر حکومت پر شدید تنقید کی۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو منضبط کرنے کا (ترمیمی)بل 2017ء ایوان میں پیش کیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے شق 40پر ووٹنگ کرائی جس کو ارکان نے مسترد کر دیا، اس کے بعد باقی شقوں کی ایوان نے منظوری دی، ایوان نے بل کو کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔