جرائم میں ملوث 200پولیس اہلکاروں و افسران کیخلاف کارروائی کی جائے‘ آئی جی سندھ نے فہرست وزیراعلیٰ کو بھیج دی

96

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ئی جی سندھ نے صوبائی حلومت کو گریڈ16 سے اوپر کے 200سے زائد پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی ، مذکورہ افسران اغواء برائے تاوان ،بدعنوانی ، رشوت ستانی غیر قانونی بھر تیوں اوراختیارات کے ناجائز استعمال سمیت دیگر مجرمانہ سرگر میوں میں ملوث ہیں ،اس سے قبل آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اپنے اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے130 پولیس افسران واہلکارروں کو پولیس کی ملازمت سے جبری ریٹائرڈیا برطرف کرچکے ہیں ،آئی جی سندھ نے گریڈ 16سے اوپر کے افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار نہ ہونے کی بناء پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث 200 زائد افسران کی فہرست وزیراعلی سندھ اور چیف سیکرٹری سندھ کو ارسال کر دی ہے، فہرست میں پولیس کو بدنام کرنے والے ان تمام افسران کے نام شامل ہیں جو سپریم کورٹ کو پیش کیے گئے ہیں، وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی اجازت کے بعد ان کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔واضح رہے کہ دو دن قبل آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، کرپشن اور محکمہ میں غیرقانونی بھرتیوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث پولیس افسران کی فہرست عدالت میں پیش کی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت دس افسران کیخلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہے، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے اعلی افسران کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ نے رپورٹ میں پیشرفت سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا، غیرقانونی بھرتیوں، فنڈز میں ہیر پھیر کے سنگین الزامات کے بعد اعلی عدالت کے حکم پر سندھ پولیس کے بڑے بڑے افسران کیخلاف بڑی انکوائری شروع ہونے جارہی ہے۔ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے اعلی افسران انکوائری آفیسر مقرر کئے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق سابق ڈی آئی جی ٹریننگ، سابق ایڈیشنل آئی جی سندھ ، سابق ایس پی، سابق ایڈیشنل آئی جی فنانس اور دیگر کے خلاف تحقیقات ہوگی۔

حصہ