دھرنا ختم نہ کرانے پر چیف کمشنر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

253

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا ختم نہ کرائے جانے پرچیف کمشنر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ 4 سے 5 ہزار افراد تمام شہریوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں، لاکھوں افراد کے حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد میں جاری دھرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا۔ عدالت کی جانب سے طلبی پر وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو فاضل جج نے سوال کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہوسکا۔

اس موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیا جارہا ہے تاہم طاقت کے استعمال سے خونریزی کا خدشہ ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے دھرنا پرامن طریقے سے ختم کرانے کے لئے 48 گھنٹے کی مہلت کی استدعا کی جس پر عدالت نے آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کردیے۔سماعت کے دوران فاضل جج نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا، جس پر ابھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ سیاسی قیادت مظاہرین سے خود مذاکرات کر رہی ہے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ 4 سے 5 ہزار افراد تمام شہریوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں اور وہ کیا مطالبہ لے کر بیٹھے ہیں اس سے متعلق سوچنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام نہیں، اصل مسئلہ صرف امن و امان کا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیے کہ لاکھوں افراد کے حقوق سلب ہونے نہیں دیں گے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو کھلی عدالت میں نہیں بتائی جاسکتیں جس پر فاضل جج نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں، آپ کو یہی کہنا ہوگا کہ مظاہرین کے پاس ہتھیار ہیں اور پتھر بھی جمع کر رکھے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ