اسلام اور مذہب کا ردعمل

167

اسلام کے حوالے سے مغرب میں ردعمل کی چار بڑی صورتیں موجود ہیں ۔
مغربی دنیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اسلام کے حوالے سے لاعلمی میں مبتلا ہے۔ یہ لوگ نہ اسلامی عقائد کے بارے میں کچھ جانتے ہیں، نہ اسلامی عبادات کے بارے میں ان کے پاس درست معلومات ہوتی ہیں۔ نہ انہیں اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کا کوئی علم ہوتا ہے۔ اس لاعلمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشروں میں لوگوں کی بڑی تعداد خود مرکز یا self centered ہوتی ہے۔ وہ اپنی انفرادی زندگی میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ انہیں دوسرے معاشروں کی کیا خود اپنے معاشرے کی بھی ٹھیک ٹھیک اطلاع نہیں ہوتی۔ وہ اپنی ذات سے آگے نہ کچھ دیکھتے ہیں نہ کچھ سوچتے ہیں، یہاں تک کہ مغرب میں بالعموم اپنے پڑوسیوں سے ربط ضبط کی بھی کوئی صورت موجود نہیں ہوتی، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اہل مغرب ایک طویل عرصے تک اسلام یا مسلمانوں کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتے۔ لاعلمی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے کسی وجہ کے بغیر خوف پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ مغرب میں اسلام سے خوف یا اسلاموفوبیا کی جو عمومی صورت حال ہے اس کا تعلق لاعلمی یا اسلام اور مسلمانوں کی اجنبیت سے ہے۔ لیکن یہ مسئلے کی صرف ایک صورت ہے۔
مغرب میں اسلام کے حوالے سے ردعمل کی دوسری صورت وہ ہے جو مغرب کے ذرائع ابلاغ نے پروپیگنڈے کے زور پر تخلیق کی ہے۔ یہاں مسئلہ لاعلمی کا نہیں بلکہ مغرب کے سیاسی، معاشی، عسکری، تہذیبی، تاریخی، مذہبی، ریاستی اور تزویراتی یعنی strategic اہداف کا ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہر چیز کے بارے میں شعوری طور پر جھوٹ بولا جائے۔ شعوری طور پر غلط اطلاعات فراہم کی جائیں، شعوری طور پر اسلام کی ایک ایسی تصویر پیش کی جائے جس کو دیکھ کر پوری دنیا بالخصوص مغربی دنیا کے لوگ ڈر جائیں، خوف زدہ ہوجائیں۔ ان کی نظر میں اسلام کی کوئی قدرو قیمت اور کوئی وقعت نہ رہے۔ وہ اسلام کے سلسلے میں کوئی رغبت محسوس نہ کریں بلکہ وہ اسلام اور اس کے پیروکاروں سے نفرت محسوس کرنے لگیں۔ غور کیا جائے تو یہ مغربی ذرائع ابلاغ کا تخلیق کردہ یا مغرب کا ’’constructed‘‘ اسلام ہے۔ اس اسلام کو مغربی ذرائع ابلاغ نے مختلف نام دے رکھے ہیں۔ کہیں یہ شدت پسند اسلام ہے، کہیں یہ روایتی اسلام ہے، کہیں یہ بنیاد پرستی پیدا کرنے والا اسلام ہے، کہیں یہ میانہ رو اسلام یا ماڈریٹ اسلام ہے، کہیں یہ سیاسی اسلام ہے، کہیں یہ جہادی اسلام ہے، کہیں دہشت گرد تخلیق کرنے والا اسلام ہے، کہیں یہ روشن خیال اسلام ہے، کہیں یہ مغرب دشمن اسلام ہے، کہیں یہ عورتوں کو دبانے اور کچلنے والا اسلام ہے، کہیں یہ بھیانک سزاؤں والا اسلام ہے، کہیں یہ سُنی اسلام ہے، کہیں یہ شیعہ اسلام ہے، کہیں یہ وہابی اسلام ہے، کہیں یہ طالبان کا اسلام ہے، کہیں یہ القاعدہ کا اسلام ہے۔ اسلام کے یہ تمام نام اور اسلام کی یہ تمام تصویریں اہل مغرب کی ایجاد ہیں۔ ان ناموں اور ان تصویروں کی کثرت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مغرب خواہ تسلیم کریں یا نہ کریں اسلام اہل مغرب کے اعصاب پر سوار ہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اپنے اس دشمن سے کیسے نمٹیں؟
اپنے دشمن سے نمٹنے کی ایک صورت انہوں نے یہ نکالی ہے کہ اپنے دشمن کی ’’اصل حقیقت‘‘ کو گم کردو۔ اس کو اتنے حصوں اور اتنے ناموں میں بانٹ دو کہ اس کی ’’وحدت‘‘ برقرار نہ رہے اور اس کے سلسلے میں کوئی ایک تصور قائم کرنا ممکن نہ رہے۔ ہم جب کسی شخص کو برے نام سے پکارتے ہیں تو ہم شعوری طور پر اس کے تشخص پر حملہ کرتے ہیں۔ اس کی ساکھ اور اس کی عزت کو تباہ کرتے ہیں۔ ہم بتاتے ہیں کہ ہمیں اس شخص سے کتنی نفرت ہے، ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اس کو برے نام سے پکار کر نفسیاتی اور جذباتی طور پر اس شخص کو قتل کر ڈالا ہے۔ مغرب صدیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو برے ناموں سے پکار کر یہی کررہا ہے۔ یہ صورت حال گزشتہ 30 برسوں میں مزید سنگین ہوئی ہے۔ مسلمانوں نے بھی مغرب کے نام رکھے ہوئے ہیں، مثلاً ہم مغرب کو سیکولر مغرب کہتے ہیں، لیکن یہ مغرب کی تذلیل نہیں اس کا ایک ’’علمی نام‘‘ ہے۔ ہم مغرب کو ’’لبرل مغرب‘‘ کہتے ہیں لیکن یہ بھی ایک علمی نام کے سوا کچھ نہیں، ہم مغرب کو ’’عیسائی مغرب‘‘ کہتے ہیں مگر یہ مغرب کا مذہبی نام ہے۔ ہم مغرب کو ’’نوآبادیاتی مغرب‘‘ یا colonial west کہتے ہیں مگر یہ نام مغرب کے تاریخی کردار سے متعلق ہے۔ مولانا مودودی نے مغربی تہذیب کو جاہلیت خالصہ قرار دیا ہے، یہ نام مغرب کو توہین آمیز محسوس ہوسکتا ہے مگر اس نام کی پشت پر بھی توہین کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ اس نام کی پشت پر حق و باطل کے تصورات کھڑے ہیں۔ یعنی اس نام کی جڑیں بھی علم میں پیوست ہیں۔
اسلام کے سلسلے میں مغرب کے ردِ عمل کی ایک صورت ’’عیسائی مغرب‘‘ کا بیانیہ ہے۔ اس بیانیے کی پشت پر اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ سے متعلق عیسائی مغرب کا ناقص اور بے بنیاد علم اور ہولناک تعصبات کھڑے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت نہیں جانتی کہ عیسائیوں کی غالب اکثریت اسلام کو آسمانی مذہب تسلیم کرتی ہے، نہ وہ حضور اکرمؐ کو نبی مانتی ہے، عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اکرمؐ نبی تو نہیں تھے مگر عبقری تھے۔ چناں چہ انہوں نے توریت اور انجیل کی تعلیمات ملا کر اسلام کے نام سے ایک ’’ملغوبہ‘‘ تیار کرلیا۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اسلام کو معاذ اللہ جھوٹا مذہب اور رسول اکرمؐ کو جھوٹا نبی کہتے ہوں وہ اسلام، پیغمبر اسلام اور ان کی اُمت کی کیا عزت کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے عیسائیوں اور یہودیوں کی اکثریت صدیوں سے اسلام اور رسول اکرمؐ کی توہین کررہی ہے اور حالیہ برسوں میں انہوں نے اسلام اور رسول اکرمؐ کی توہین کو ’’معمول‘‘ بلکہ ’’کھیل‘‘ بنا دیا ہے۔ عیسائیوں میں ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو اسلام کو آسمانی مذہب اور رسول اکرمؐ کو پیغمبر تسلیم کرتے ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور مغرب کے اسلام سے متعلق مرکزی فکری دھارے پر ان کا کوئی اثر نہیں۔
اسلام کے حوالے سے مغرب کا ایک ردعمل سیکولر مغرب کے پالیسی سازوں اور دانش وروں کا ردعمل ہے۔ اس ردعمل کا سبب نہ لاعلمی ہے نہ مذہبی تعصب ہے، بلکہ اس کا سبب اسلام کا علم اور شعور ہے۔ اس ردعمل کی پشت پر موجود لوگ جانتے ہیں کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں ’’دین کامل‘‘ ہے۔ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس ضابطۂ حیات کا ایک تصور ریاست ہے، ایک تصور سیاست ہے، ایک تصور معیشت ہے، ایک تصور تہذیب ہے، ایک تصور تاریخ ہے، ایک تصور علم ہے، ایک تصور اخلاق ہے، بلاشبہ اسلامی تہذیب ہر دائرے میں توانا نہیں۔ مگر چوں کہ اسلام زندہ جاوید ہے اور مسلمانوں کی عظیم اکثریت کم از کم اسلام سے شدید جذباتی تعلق رکھتی ہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسلمانوں کا جذباتی تعلق کسی بھی تاریخی واقعے سے ’’شعور‘‘ میں ڈھل کر اپنی تہذیب کے کمزور پہلوؤں کو بھی توانا کرسکتا ہے۔ ایسا ہوا تو صرف مسلم دنیا میں نہیں پوری دنیا میں مغرب کی سیاسی، تہذیبی اور معاشی بالادستی داؤ پر لگ سکتی ہے۔ چناں چہ مغرب کے پالیسی ساز اور مغرب کے دانش ور اس اسلام کے سخت خلاف ہیں جو خود کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات نہیں۔ اگر وہ سیاست و معیشت سمیت ہر دائرے میں اللہ کی کبریائی کا اعلان اور نفاذ نہیں کرتا تو ایسا اسلام ادھورا اسلام ہے، ایسا اسلام نامکمل اسلام ہے، ایسا اسلام غیر حقیقی اسلام ہے، ایسا اسلام مغربی ساختہ یا Made in America یا Made in Europe اسلام ہے۔ مغرب اور اس کے مقامی آلہ کار اسلام کو صرف عقائد، عبادات اور اخلاقیات تک محدود کرنے کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔ ان کی سازش یہ ہے کہ جس طرح مغرب میں عیسائیت لوگوں کا ’’نجی معاملہ‘‘ بن گئی ہے، جس طرح ہندوازم بدھ ازم اور یہودیت نے سیکولر ازم کی بالادستی کو تسلیم کرلیا ہے اسی طرح مسلم معاشروں میں اسلام کو بھی صرف نجی معاملہ بنادیا جائے اور اسے سیکولر ازم کے آگے جھکا دیا جائے۔ اس سازش میں مسلم دنیا کے حکمران، جرنیل، بادشاہ، سیاسی رہنما، دانش ور، صحافی یہاں تک مذہبی ’’نظر آنے والے‘‘ عناصر بھی پوری طرح شریک ہوچکے ہیں۔
سیکولر مغرب کو اسلام کے حوالے سے ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اسلام مغرب کا ’’متبادل’’ بن کر کیوں کھڑا ہے۔ مغرب سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر اپنے متبادل کو نہیں۔ نظریاتی اور تہذیبی اعتبار سے سوشلزم مغربی تہذیب کا عم زاد یا cusin تھا مگر چوں کہ وہ سرمایہ دار مغرب کا متبادل بن کر کھڑا ہوگیا تھا اس لیے مغرب نے جب تک اسے فنا نہیں کردیا چین سے نہیں بیٹھا۔ چوں کہ وہ اسلام کو بھی اپنا متبادل سمجھتا ہے اس لیے اس کے خلاف بھی اس نے ایک عالمگیر نظری، فکری اور تہذیبی تصادم برپا کر رکھا ہے۔ مغرب کا ایک مسئلہ اس کا یہ مشاہدہ ہے کہ روئے زمین پر اسلام نہ کہیں سیاسی قوت ہے نہ معاشی قوت، اس کے پاس نہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہے نہ عسکری طاقت، اس کے باوجود مغربی ممالک میں ہر سال ہزاروں مغربی باشندے مسلمان ہورہے ہیں، مغرب سوچ رہا ہے کہ اگر اسلام ’’کمزوری‘‘ اور ’’غربت‘‘ میں یہ کرسکتا ہے تو ’’طاقت ور‘‘ اور ’’امیر‘‘ ہو کر کیا نہیں کرسکتا؟۔

حصہ