ہماری قومی سلامتی کو لاحق خطرات

117

ہماری اجتماعی قومی زندگی کے ایسے عوامل جو ہماری قومی سلامتی پر اثرانداز ہوتے ہیں ان میں ’دفاع‘ اور ’معاشرتی نفسیات‘ (Psycho- social) ہماری قومی طاقت (National Power) کے انتہائی اہمیت کے حامل عناصر ہیں۔ ذیل کی سطور میں ہم ان عناصر کو مختصراً زیر بحث لائیں گے تاکہ جو خطرات لاحق ہیں ان کا تعین کرسکیں۔ یہ خطرات امریکا اور بھارت کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک حد تک ان خطرات کا سبب ہم خود بھی ہیں۔
دفاع اور ترقی: اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کو حربی سازو سامان کی پیداوار کے میدان میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جن کی بدولت ہم ٹینک، گنیں، میزائل، جنگی بحری جہاز اور جے ایف تھنڈر جیسے ہمہ صفت طیارے بنا رہے ہیں جب کہ ایٹمی طاقت سے چلنے والی سب میرین کی تیاری کا کام جاری ہے۔ ہماری زمینی فوج نے ضرورت کے حربی سازو سامان اور گولہ بارود تیار کرنے کی 90 فی صد تک خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔ اس طرح 1990ء سے لے کر اب تک پاکستانی فوج کو 40دن سے زائد تک جنگ لڑنے کی بھرپور صلاحیت حاصل ہے جب کہ بھارت کو بمشکل دس دنوں سے زیادہ جنگ لڑنے کی صلاحیت حاصل نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھارت ایک عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن ایسی طاقت بننے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اسے ابتدائی سطح کی ناکامیوں کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے یہ حقیقت واضح ہو تی ہے:
* بھارتی مسلح افواج نے ملکی سطح پر تیار کیے جانے والے طیاروں اور ٹینکوں کو ناقابل بھروسا قرار دے کر انہیں قبول کرنے سے انکارکر دیا ہے۔ تینوں فورسز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملٹی رول لائٹ ایڈوانس طیارے ’’تیجا‘‘ کے ایڈوانس ورژن کا استعمال ملکی دفاع سے مذاق کے مترادف ہوگا۔ جب کہ انڈین آرمی نے ملکی سطح پر تیار کیے جانے والے ’’ارجن‘‘ ٹینک کو بھی سروس میں لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
* فوج نے گزشتہ ہفتے ابتدائی طور پر 1770 (FRCVs) ٹینکوں کے حصول کے لیے عالمی اسلحہ ساز اداروں کو ابتدائی ٹینڈر جاری کیے لیکن ناکام رہے۔ دوسری جانب بھارتی فضائیہ 114 سنگل انجن والے طیاروں کے حصول کی کوششوں میں بری طرح ناکام ہے۔
* اسی طرح بھارتی وزارت دفاع کی دفاعی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کرنے کی پالیسی بھی ناکام ہے۔ اس پالیسی کے تحت بھارت کی دفاعی اسلحہ ساز کمپنیوں کو عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں کے اشتراک سے جدید اسلحہ سازی کا نظام اور تکنیک کی منتقلی بھی ممکن نہ ہو سکی ہے۔
* فوج اور فضائیہ کے لیے یہ سب تکلیف دہ بات ہے۔ ایک طرف تو دفاعی بجٹ ان منصوبوں کی مالیت کے مقابلے میں بہت کم ہے اور دوسری جانب پہلے سے واجب الادا ادائیگیوں کی اقساط کے لیے بھی خطیر سرمایہ چاہیے۔ فضائیہ کے لیے سنگل انجن والے لڑاکا طیاروں کا منصوبہ جو سویڈن کے گریپن ای (Gripen۔E) اور امریکا کے ایف16 طیارے کی طرح ڈاگ فائٹ کے ماہر ہیں، ان کی لاگت 1.15 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
* بری فوج اس وقت تک 118 ارجون مارک 2ٹینک لینے پر رضا مند نہیں ہے جب تک 6,600 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے یہ ٹینک عملی مظاہرے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر ایف آر سی وی (FRDV) کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو ایف ایم بی ٹی (FBMT) منصوبہ اپنی موت خود مرجائے گا۔ بھارتی دفاعی پیداوار کی لابی بے تحاشا وقت اور پیسہ صرف کرکے ’’بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر نتیجہ منفی نکلتا ہے۔‘‘ ایک لیفٹیننٹ جنرل کے مطابق ’’کیا خود انحصاری کے نام پر عسکری تیاریوں کو قربان کیا جارہا ہے۔‘‘
* بھارتی فضائیہ کے بقول تیجا طیارے کو ’’جنگ کے لیے حتمی تیاری‘‘ کرنے میں ابھی وقت لگے گا تب ہی یہ طیارہ آئندہ تین دہائیوں کی ضروریات کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔ تاہم محدود رینج اور اسلحہ اٹھانے کی صلاحیت کی وجہ سے تیجا بھارتی فضائیہ کی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتا۔ ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ امریکی ایف16اور سویڈش گریپن طیاروں کے مقابلے میں صرف پچاس فی صد صلاحیت رکھتا ہے اور دشمن کے مقابلے میں دیگر طیاروں کی حفاظت ہی میں پرواز کر سکتا ہے۔ پاکستان اور چین کی جانب سے ’’مشترکہ خطرے‘‘ سے نمٹنے کے لیے42کے مقابلے میں کم از کم33 جنگی سویاڈرن کی بھارتی فضائیہ کو ضرورت ہے اور جب تک تیجا مارک ٹو (Teja Mark II) حقیقت کا روپ نہیں دھارتا طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لیے سنگل انجن والے لڑاکا طیارے انتہائی ضروری ہیں۔
بلاشبہ بھارت مسلح افواج میں پائی جانے والی شدید کمزوریوں کے مسائل سے دوچار ہے جنہیں دور کرنے کے لیے اسے کافی وقت درکار ہے۔ فی الوقت بھارت ’اسٹرٹیجک ڈیفنس پارٹنرشپ‘ کے طفیل امریکا سے چند مخصوص ہائی ٹیک اسلحہ اور عسکری سازوسامان حاصل کر کے وقتی طور پر پاکستان پر سبقت لے جانے کی کوشش کرے گا، خصوصاً سائبر اور الیکٹرونک وارفئیرکے نظام کو اپنا کر برتری حاصل کر سکتا ہے جس کے لیے اسٹرٹیجک ڈیفنس پارٹنر شپ کے دیگر ارکان سے بھی اسے امداد حاصل ہوگی جن میں اسرائیل، آسٹریلیا اور برطانیہ شامل ہیں۔ پاکستان کو اس معاملے پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جاناجا چاہیے بلکہ حاصل شدہ صلاحیت میں مزید بہتری لانے کی سعی کرتے رہنا چاہیے کیوں کہ اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کے رکن ممالک کی مدد سے بھارت اپنی کمزوریوں پر جلد ہی قابو پا لے گا۔
معاشرتی و نفسیاتی عدم توازن: 1947ء میں اعتدال پسند (Moderate) مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا کہ: ’’جس کا نظام حکومت جمہوری ہوگا، جو قرآن و سنہ کے اصولوں پر مبنی ہوگا۔‘‘ بعد میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے 1973ء کے آئین میں اس بات پر مہر ثبت کر دی تھی لیکن اس بڑے کام کی پاداش میں جلد ہی چار اے (4As) (امریکا‘ آرمی‘ عدلیہ اور اتحادیوں) کے ناپاک گٹھ جوڑ نے انہیں اور جمہوریت دونوں کو منظر سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد 2007ء میں اس وقت معاملات بدترین شکل اختیار کر گئے جب امریکا نے پاکستانی قوم کے نظریات کو تبدیل کرنے کے لیے 1.5 بلین ڈالرکی خطیر رقم مختص کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہماری قوم زیادہ تر سیکولر یا لبرل نظریات کی حامل ہو چکی ہے۔ اس کے سبب ’’معاشرے میں نفسیاتی سرکشی پیدا ہوئی ہے جو ایک خطرناک صورت حال ہے۔‘‘ کچھ اسی قسم کی صورت حال 1965ء میں انڈونیشیا میں بھی پیدا ہوئی تھی جس نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی تھی۔
امریکا نے عالم اسلام کے خلاف سانحہ نائن الیون کے بعد پہلی صلیبی جنگ شروع کی جس میں افغانستان، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن جیسے مسلمان ممالک کو تباہ کر دیا گیا۔
جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ
اب صدر ڈولڈ ٹرمپ اپنی مندرجہ ذیل گمراہ کن منطق کے تحت دوسری صلیبی جنگ کا آغاز کرنا چاہتے ہیں:
’’اسلام ایک متعدی کینسر ہے جو دنیا کے ایک بلین سات سو ملین لوگوں کے دلوں میں پھیل چکا ہے اور ہمیں اس کا ویسے ہی خاتمہ کرنا ہے جیسا کہ ہم نے کیمونزم اور نازی ازم کا کیا تھا۔ یاد رہے کہ ہم کسی فرقے کی بات نہیں کر رہے بلکہ ہمارے مخاطب من حیث القوم تمام مسلمان ہیں‘‘۔ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل فلن (General Flynn) کا یہ نظریہ ہے جو اب ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ نہیں ہیں اور انہیں روس سے تعلقات کے شبے میں فارغ کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا اپنے ایشیائی محور کا حالیہ 9 روزہ دورہ اسی اسٹرٹیجی کا جائزہ لینے اور یقین دہانی حاصل کرنے کے لیے تھا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کس طرح پہلے لبنان کو نشانہ بنایا جائے اور جنگ کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے جزیرہ نما عرب کے ارد گرد ایرانی اثرو رسوخ کو ختم کردیا جائے۔ اس کارروائی کا اہم مقصد اسلام کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے نقشے کو از سر نو مرتب کرنا ہے۔ اگرچہ شرمناک پسپائی کے بادل امریکا کے سر پر منڈلا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے جارحیت کے مرکز کو محفوظ بنانے کے لیے افغانستان پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس فتنے کو وسعت دے کر افغانستان کو داعشتان بنا کے تمام علاقائی ملکوں کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان کو گزشتہ تین دہائیوں سے کثیر الجہتی چیلنجز کا سامنا رہا ہے لیکن حکمرانی اور فیصلہ سازی کے عمل کی خرابیوں کے باوجود پاکستان سیاسی لحاظ سے مستحکم ہے اور قومی ادارے اپنی ذمے داریاں پوری کر رہے ہیں۔ اب پاکستانی قوم کی نظریں 2018ء کے انتخابات پر ہیں جن سے ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مناسب مقام حاصل ہے جس کی بنیاد جارحیت نہیں بلکہ سیاسی و اقتصادی روابط ہیں جو اس دورکا مضبوط ترین اور کارگر ہتھیار ہے اور پورے خطے کو بغیر جنگ لڑے پرامن فضاؤں میں سانس لینے کا ماحول فراہم کرتا ہے۔ معاشرے میں پھلیو ہوئی نفسیاتی سرکشی ہماری اپنی پیدا کردہ ہے جس کے تدارک کے لیے ایک مضبوط معاشرتی اصلاحی نظام کی ضرورت ہے تاکہ صورت حال کو ابتری کی جانب جانے سے روکا جا سکے۔ یہ جمہوری نظام کہ جس کی شکل و صورت ہم نے اپنے ہی ہاتھوں بگاڑ لی ہے، اگر قائم رہا اور چلتا رہا تو فلاح کے راستے نکل آئیں گے۔