اسلامی اورمغربی تہذیب ایک دوسرے کی ضد ہیں،شاہ نواز فاروقی

74
جمعیت الفلاح میں معروف دانشور اور کالم نگار شاہنواز فاروقی، سابق رکن قومی اسمبلی مظفر احمد ہاشمی ، قمر محمد خان اور سعید صدیقی مذاکرے سے خطاب کررہے ہیں(فوٹو جسارت)
جمعیت الفلاح میں معروف دانشور اور کالم نگار شاہنواز فاروقی، سابق رکن قومی اسمبلی مظفر احمد ہاشمی ، قمر محمد خان اور سعید صدیقی مذاکرے سے خطاب کررہے ہیں(فوٹو جسارت)

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) اسلامی اورمغربی تہذیب ایک دوسرے کی ضد ہیں۔اسلامی تہذیب کا مرکز ومحور توحید کا تصور ہے ۔ جبکہ مغربی تہذیب کی بنیاد مادہ پرستی پر قائم ہے۔اللہ رب العزت کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی جبکہ مادہ فنا ہونے کے لیے ہے اس لیے مغربی تہذیب کا زوال بھی یقینی ہے۔مغرب کی ترقی کے دور میں اقبال مغرب کے زوال اور مسلمانوں کے عروج کی بات کہہ رہے تھے۔ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور،شاعرو کالم نویس شاہ نواز فاروقی نے ’’فکر اقبال اور تہذیبوں کا تصادم‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے جمعیت الفلاح اسلامی تہذیبی مرکز کراچی میں کیا۔ تقریب کی صدارت سابق رکن قومی اسمبلی و صدر جمعیت الفلاح مظفر احمد ہاشمی نے کی۔اس موقع پر قمر محمد خان اور سعید صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ شاہ نواز فاروقی نے کہا کہ تہذیبوں کی بنیاد اُن کے تصورات اور علم پر ہوتی ہے۔اور یہی انسانوں کی جدوجہد کا مرکز ہوتا ہے۔ ہماری اور مغرب کی کامیابی و ترقی کا معیار الگ الگ ہے۔علامہ اقبال نے اپنے کلام میں مغرب کے تصورات کی خامیوں کو بیان کیا ہے اور اسلامی تہذیب کے عروج اور اس کے دوام کے اسباب کو واضح کیا ہے۔1857 ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی عسکری شکست کے بعد اکبر الٰہ آبادی نے مغرب کو فکری محاذ پرشکست دی، اسی طرح علامہ اقبال نے مسلمانوں کا اعتماد بحال کیا اور اُن کو اُن کا مقام یاد دلایا ہے۔اقبال اُمید کے شاعر ہیں۔اقبال اپنے کلام میں کہتے ہیں کہ اگر مسلمان قرآن اور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں اپنے شب و روز بسر کرے تو وہ ایک نیاجہاں پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارا ظاہر مذہبی ہے اور باطن سیکولر ہوتا جارہا ہے۔ ہماری سوچ اور فکر کا محورمادہ پرستی ہے زندگی میں کامیابی اور ترقی کا معیار دولت اور آسائشات دنیا ہیں۔ہمارا آئیڈیل مغربی فکر کے ماتحت ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کامیابی کا معیار اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی ہے۔مظفر احمد ہاشمی نے اپنے صدراتی کلمات میں کہا کہ علامہ اقبال مسلم اُمہ کے فکر ی رہنما ہیں ۔اقبال کی فکر آفاقی ہے ۔ان کا کلام مسلمانوں کو بیدار کرتا ہے اور عظمت و عروج کا پیغام دیتاہے۔علامہ اقبال مسلمانوں کو خودی کا پیغام دیتے ہیں کہ اپنے اندر وہ خصوصیات اور صلاحیت پیدا کریں جو مسلمانوں کی میراث ہے۔آج اقبال کی فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

حصہ