احمدیوں کی غیر مسلم حیثیت تبدیل نہیں ہوگی‘ سینیٹ نے بھی مہر ثبت کردی

118

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی انتخابات ایکٹ ترمیمی بل 2017ء اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے۔ جمعہ کو چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر قانون زاہد حامد نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا۔ انتخابات ترمیمی بل2017ٗ کے نکات کے مطابق قادیانیوں اور لاہوری گروپ اور احمدیوں کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی ،متعلقہ فردختم نبوت کے حلف نامے پر دستخط سے انکار کرے تو غیر مسلم تصور ہوگا۔ایسے فرد کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا کر ضمنی فہرست میں بطور غیر مسلم لکھا جائے گا ۔ووٹر لسٹ میں درج کسی نام پر سوال اٹھے تو اسے 15دن کے اندر طلب کیا جائے گا، متعلقہ فرد حلف نامے پر دستخط کرے گا کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے،انکار کی صورت میں غیر مسلم لکھا جائے گا۔ منظور ہونے والے بل میں ختم نبوت سے متعلق انگریزی اور اردو کے حلف نامے بھی شامل ہیں۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ الیکشن بل میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی ، احمدیوں کی حیثیت آئین کے مطابق غیر مسلم ہی رہے گی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ختم نبوت سے متعلق حلف کے بجائے انتخابات بل میں اقرار نامے کے الفاظ آئے تاہم پارلیمنٹ نے اب ختم نبوت کے حلف نامے کو محفوظ کردیا ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے بل پر حکومت کو ایک بار پھر سبکی کا سامنا، اراکین کی 2 تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی اہم بل منظور نہ ہوسکا۔بل پر مطلوبہ ارکان پورے کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سینیٹ لابی میں موجود رہے اور مطلوبہ ارکان پورے کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے، تعداد پوری نہ ہونے پر چیئرمین سینیٹ نے اجلاس پیر کی شام 3بجے تک ملتوی کر دیا۔قبل ازیں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان نہ کرنا غیر آئینی قرار دے دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو این ایف سی ایوارڈ میں توسیع کے لیے سینیٹ سے اجازت لینا ہوگی۔ ان کے بقول سینیٹ کو صوبوں کے حصوں میں اضافے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔

حصہ