آسمان کے بدلتے رنگ

530

پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان جو کچھ ہوا ہے اس میں میرے لیے کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ یہ طلوع آفتاب کا منظر ہے۔ جس کی نشانیاں صبح کاذب سے نظر آنے لگتی ہیں، پاکستان کی سیاست میں موسمی پرندوں کی اڑان پر نظر رکھنا شرط اول ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی سندھ کے ممتاز بھٹو اور سابق وزیر خارجہ آصف احمد علی نے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ان کی سیاست کا نہیں اشاروں کی زبان کا تقاضہ ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ بھٹو کے ٹیلنٹڈ کزن کی سیاسی حیثیت کیا ہے۔
دبئی میں ملک ریاض کی ملازمت کرتے اور عافیت کی زندگی گزارتے مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کا ماضی پر شرمندہ ہونا اور مہاجروں کی دو نسلوں کی بربادی کی تلافی کا خیال بھی من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کے بجائے کسی کے بالائے بام آنے اور زلف لہرانے کا شاخسانہ لگتا ہے۔
مصطفی کمال کی کراچی آمد سے نہ زمین دھڑکی تھی نہ آسمان میں کوئی روزن نمودار ہوا تھا۔ صرف اتنا ہوا تھا کہ الطاف حسین کے بارے میں وہ باتیں جو جماعت اسلامی 1987 سے کہہ رہی تھی مزید تلخ لہجے میں کہی گئیں۔ بلکہ تقریباً گالی کی زبان میں۔ اس کے باوجود الطاف حسین کے 22اگست 2016 کے آخری خطاب تک نہ مصطفی کمال کی کوئی اہمیت تھی نہ حیثیت۔
الطاف حسین جانتے تھے کہ کون معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں، ان کے سامنے دو راستے تھے ایک وہ جو گلبدین حکمت یار نے اختیار کیا۔ روسی ریچھ سے بھڑ جانے اور امریکی صدر کی ناشتے کی دعوت ٹھکرا دینے والے، گلبدین حکمت یار کا سامنا طالبان سے ہوا تو وہ منظر عام سے غائب ہوگئے۔ مجاہدین ان کی صفوں سے نکل کر طالبان بن گئے، کچھ حقیقتاً، کچھ ضرورتاً۔ کسی وقت حکمت یار سے پوچھا گیا کہ آخر وہ گم نام کیوں ہوگئے، تو حکمت یار نے کہا بے نشان ہونے سے گم نام ہونا بہتر ہے۔ انہوں نے کہا جب میں نے طالبان کو دیکھا کہ ایک ہاتھ میری پشت سے ہٹ کر طالبان کی پشت پر آگیا ہے۔ تب میں نے فیصلہ، فیصلہ سازوں پر چھوڑ دیا۔ حکمت یار آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے کابل میں موجود اور فیصلہ سازوں کی ضرورت۔ طالبان جلد ہی اپنے تخلیق کاروں کی گرفت سے باہر نکل گئے ساری محبوبیت ہوا میں اڑ گئی۔ راز دان رقیب بن گئے اور بین الاقوامی دہشت گرد۔
الطاف حسین نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ ٹکراؤ کا راستہ۔ وہ کیا کرتے۔ ان کی تو تربیت ہی ٹکراؤ کی تھی۔ لیکن وہ یہ بھول گئے، کہ جس کے کہنے پر خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی ہے اس کے خلاف خون کی ہولی کھیلنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ الطاف حسین بچوں کا کھیل کھیلتے رہے وہ بار بار تنظیم کی قیادت سے دستبرداری کا اعلان کرتے اور پھر اعلان واپس لے لیتے۔ ان کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگتا تو غیر ملکی ان کی مدد کو آجاتے ان کے گھر سے دولت کے انبار برآمد ہوئے برطانوی قوانین کے تحت ان کا بچنا ناممکن تھا لیکن کسی نادیدہ ہاتھ نے انہیں بچالیا۔ عمران فاروق قتل کیس میں وہ کمر تک دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی آزاد ہیں۔ یہاں برطانوی پاسپورٹ ان کی پناہ گاہ ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کچھ طاقتیں مائنس الطاف کی بات تو کرتی ہیں لیکن ان کا اصل مقصد ان کا خاتمہ نہیں ان کی طاقت اور صلاحیت کار کو محدود کرنا ہے۔
الطاف حسین نے کوزہ گر سے ٹکراؤ کا فیصلہ کیا جو دوسرا کوزہ بنا چکا تھا تو ان کی اپنے اشتعال پر قابو نہ پانے کی کمزوری ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئی۔ یار کا پاؤں زلف دراز میں الجھا تو۔۔۔ الطاف حسین اپنے سیاسی مخالفوں سے بڑھ کر فوج کو گالم گلوچ پر اتر آئے۔ وہ سمجھے تھے کہ جس طرح پاکستانی پرچم کی توہین برداشت کرلی گئی تھی، پاکستان مردہ باد کا نعرہ بھی برداشت کرلیا جائے گا۔ ویسے وہ کچھ غلط بھی نہیں سمجھے تھے۔ پشاور میں بیٹھ کر پختونستان بنانے اور سندھ کے دل حیدرآباد میں سندھو دیش کا پرچم لہرانے والوں کی موجودگی میں الطاف حسین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ انہیں سنجیدگی سے لیا جائے گا لیکن اشتعال دلانے والے الطاف حسین سے بڑی غلطی کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اب وہ کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں تھے۔ بہت خون خرابہ ہوگا کے دعوے کرنے والے الطاف حسین کراچی کی سنسان گلیاں دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ ان کا اشتعال بڑھتا گیا۔ گالیاں ورد زبان ہوگئیں۔ ان کے وفاداروں کے لیے ان کا دفاع مشکل ہوتا گیا۔ دفتر بند ہوگئے اور کارکن نظر بند۔
پھر وہ گم نام سائے حرکت میں آئے جو پردوں کے پیچھے نظر تو آتے ہیں پہچانے نہیں جاتے۔ پہچانے جائیں تو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ثابت کرنے پر اتر آئیں تو نشاندہی کرنے والا گم شدہ ہوجاتا ہے اور اگر اسے اس بات پھر بھی سمجھ نہ آئے تو گم نام۔
الطاف حسین سے اظہار برات اور فاروق ستار سے لاتعلقی کے باوجود ایک دوست اپنے دفتر کے سامنے سے اٹھائے گئے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ ان کے لیے چند دن مظاہرے ہوئے۔ دفتری ساتھیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ پھر لوگ ان کے ذکر سے کترانے لگے۔ ڈیڑھ دو ماہ بعد وہ منظر عام پر آئے لیکن گم سم سے۔ بات چیت سے گریزاں۔ ادارے نے طبی بنیادوں پر رخصت منظور کی اور بقایا جات کی ادائیگی کردی۔ پھر ایک دن وہ پی ایس پی کے اسٹیج پر پائے گئے۔ لیکن ان کے اندر کا ’’وہ‘‘ شاید کہیں گم ہوگیا تھا۔ البتہ اب وہ الطاف حسین کے خلاف کھل کر بولتے ہیں اور وقتاً فوقتاً بتاتے رہتے ہیں کہ کون کون فاروق ستار کے ہاتھ سے نکل گیا۔
گزشتہ دنوں ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے پی ایس پی سے تعلق جوڑا، فاروق ستار کا رد عمل دیدنی تھا۔ انہوں نے فرمایا اب دیکھتے ہیں کہ ارشد وہرہ کا جو کام ہم نہیں کرواسکے وہ مصطفی کمال کیسے کرواتے ہیں۔ اسی دن میرے ’’دوست‘‘ کا تبصرہ تھا کہ اینٹیں نکلنے کا دور گزر گیا۔ اب دیوار گرنے والی ہے۔ بظاہر مصطفی کمال کی کامیابی ہے لیکن اس کامیابی کا پس منظر بالکل واضح ہے۔ آہنی دروازوں اور سنگی دیواروں کے پیچھے براجمان کسی ہستی کا اشارہ ابرو۔ اس اشارہ ابرو کے سبب انیس قائمخانی بلدیہ ٹاؤن گارمنٹ فیکٹری کی جے آئی ٹی میں مجرم ٹھیرائے جانے کے باوجود سیاست میں سرگرم ہیں، کوئی تو سبب ہے کہ مصطفی کمال، حماد صدیقی کے سر کے بدلے اپنا سر پیش کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔
میرا دوست ٹھیک کہتا تھا۔ دیوار گر پڑی، لیکن مصطفی کمال پر۔ فاروق ستار مصطفی کمال کے دائیں جا بیٹھے۔ مشترکہ مقصد۔ مشترکہ کوشش، مشترکہ پرچم، مشترکہ نشان۔ مہاجروں کا ووٹ تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ مصطفی کمال کی ایک رٹ ایم کیو ایم کا نام بھی قبول نہیں۔ فاروق ستار کی ایک مجبوری۔ ان کے پلے میں ایم کیو ایم کے نام کے سوا کیا ہے۔ کارکنان اور رابطہ کمیٹی کا سخت رد عمل آیا۔ فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرڈالی۔ مصطفی کمال کے مطالبات کو رد کردیا۔ سیاست سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔ پھر نعرے گونجے، نہیں بھائی۔ نہیں بھائی۔ کارکنان نے ہاتھ جوڑے۔ وسیم اختر نے بھی۔ پھر میڈیا کے مائیک ہٹا دیے گئے۔ وسیم اختر فاروق ستار سے مائیک لینے کی کوشش کرتے رہے۔ فاروق ستار نفی میں گردن ہلاتے رہے۔ فاروق ستار چند لمحوں میں قائد تحریک ثانی بن گئے۔ اب ڈرامے کا نیا موڑ آیا۔ امی جان کو لایا گیا۔ اطاعت گزار بیٹے نے ماں کے حکم پر اس پارٹی سے اتحاد توڑ دیا جس کا نام بھی ان کی زبان سے ادا نہیں ہورہا تھا۔ ویل ڈن فاروق ستار۔ اب مصطفی کمال پریس کانفرنس کریں گے۔ الطاف کے ساتھ فاروق ستار کو بھی گالیاں دیں گے۔ فاروق ستار شہدا کے قبرستان جائیں گے۔ ان شہدا کو تحریک پاکستان کا تسلسل ٹھیرائیں گے۔ فی الحال پی ایس پی کی طرف جانے والے رک جائیں گے۔ جھلمل پردوں کے پیچھے آؤنیاں جاؤنیاں دکھائی دیں گی۔ لیکن یاد رکھیے فیصلہ عوام کا ہی ہوگا اور عوام الطاف حسین سے نالاں ضرور ہیں، ناراض نہیں۔

حصہ