مسلم لیگ ن آزاد کشمیر یا ’’ہاؤس آف کارڈز‘‘؟

53

سردار سکندرحیات خان آزادکشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم ہیں اور انہیں قومی سیاست میں اس وقت زوردار انداز سے داخل ہونے کا موقع ملا جب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بننے والے پاکستان قومی اتحاد کے نام سے ایک اتحاد کا ڈنکا بج رہا تھا۔ سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں مسلم کانفرنس اس اتحاد کا حصہ تھی اور سکندر حیات مسلم کانفرنس کی طرف سے کچھ عرصہ اس اتحاد کے سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کرتے رہے۔ آزادکشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے ایک انٹرویو میں اپنی ہی پارٹی کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر کی حکومتی اور سیاسی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سردار سکندر حیات خان نے فاروق حیدر کی مکمل ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے ان کا مزید ساتھ دینے سے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فاروق حیدر ن لیگ کے کارکنوں پر اللہ کا عذاب اور ناقابل اصلاح ہیں۔ سردار سکندر حیات کی ناراضی اور ناخوشی کا دائر ہ فاروق حیدر خان تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے آصف کرمانی اور برجیس طاہر پر بھی کرپشن کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ پاکستان میں احتساب کے عمل کو ایک ہی بار مکمل کرنا چاہیے۔ نوازشریف نے درست فیصلے نہ کیے تو بہت سے ارکان جماعت چھوڑ جائیں گے۔ سردار سکندر حیات خان نے کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کو مسئلہ کشمیر کا قابل قبول حل بھی بتایا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب ان کے چار نکاتی کشمیر فارمولے کا چرچا تھا تو بطور وزیر اعظم آزادکشمیر سردار سکندر حیات خان نے اس فارمولے کی تائید میں چناب فارمولہ پیش کیا تھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ دریائے چناب کو بنیاد بنا کر کشمیر کو تقسیم کیا جائے۔ سکندر حیات خان کی اس تجویز پر خاصی لے دے بھی ہوئی تھی اور ایک بڑے طبقے نے ان کے خیالات کو مسترد کیا تھا۔ اب جب کہ وہ پیرانہ سالی کا شکار ہیں اور عملی سیاست سے کسی حد تک لاتعلق ہوچکے ہیں ایک بار پھر متنازع خیالات کا اظہار کرکے انہوں نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔ راجا فاروق حیدر کے بارے میں سردار سکندر حیات کا یہ طرز تکلم قطعی نیا اور اجنبی ہے۔ جس دور میں سردار سکندر حیات، سردار عبدالقیوم خان پر اپنے بیٹے سردار عتیق احمد کو آگے بڑھانے اور پارٹی پر مسلط کرنے کا الزام عائد کر رہے تھے عین اسی لمحے سردار سکندر حیات غیر محسوس طریقے سے راجا فاروق حیدر کی سیاست کے لیے راستے بنا رہے تھے اور جب سردار سکندر حیات سردار عبدالقیوم خان کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑا ہونے سے انکاری ہوتے تھے تو یہ راجا فاروق حیدر ہی ہوا کرتے جو انہیں زور زبردستی کرکے سردارعبدالقیوم خان کے مقابل کھڑا کرتے تھے۔ راجا فاروق حیدر خان نہ ہوتے تو مسلم کانفرنس میں سکندر گروپ کبھی تشکیل پا ہی نہیں سکتا تھا کیوں کہ سردار سکندر حیات خان قومی سیاست میں تنہا فعال کردار کرنے اور آزاد اُڑان بھرنے کے خوگر رہے ہی نہیں۔ خدا جانے اس تعلق کو کسی کی نظر لگ گئی یا یہ سب مکافات عمل ہے کہ آج راجا فاروق حیدر خان کے خلاف سردار سکندر حیات کے جذبات کا آتش فشاں پوری طرح پھٹ پڑا۔ اس ناراضی کی وجوہ کیا ہیں یہ تو دونوں شخصیات کو ہی علم ہوگا مگر ہو نہ ہو اس کا تعلق نکیال کی سیاست، ترقیاتی اسکیموں اور فاروق سکندر کی وزارت سے ہے۔
کریلوی خاندان سیاست اور حکومت میں جس اسٹائل کا خوگر رہا ہے راجا فاروق حیدر خود اس سے یکسر مختلف بنا کر پیش کررہے ہیں۔ شاید ’’اصولی‘‘ اختلافات کی کہانی کا نچوڑ یہی ہے۔ اس سے پہلے سردار سکندر حیات کے چھوٹے بھائی سردار نعیم بھی وزیر امورکشمیر پر بیانات کے ذریعے چڑھ دوڑے تھے تو یہ بھی ترقیاتی اسکیموں کے ’’کیک‘‘ کا جھگڑا ہی معلوم ہوتا تھا اور اب آزادکشمیر کے بزرگ اور سینئر ترین سیاست دان سردار سکندر حیات خود لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں آگئے ہیں تو اس سے مسلم لیگ ن کی صفوں کے نیچے گزرنے والی فالٹ لائن کا اندازہ ہورہا ہے۔ یہ زلزلے کا ہلکا سا جھٹکا ہے جو کسی بڑے بھونچال پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ راجا فاروق حیدر ایک واضح لائن لے کر میاں نوازشریف کے اس بیڑے میں سوار ہو چکے ہیں جس میں ان کے بھائی شہباز شریف بھی بیٹھنے سے گریزاں اور متذبذب ہیں وہ مسلسل مسلم لیگ ن کے اجلاسوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ لوگ اسلام آباد کے ’’بادنما‘‘ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر اسمبلی کے رکان اسمبلی کی ایک معقول تعداد ہمیشہ سیٹی بجنے کے انتظار میں رہتی ہے۔ سکندر حیات نے انہی خاموش لوگوں کو زبان دینے کی کوشش کی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ سکندر حیات خان کی تلخئ گفتار کی ہر دور میں کچھ وجوہ رہی ہیں اور ان میں اکثر شکایات کا تعلق نکیال کی سیاست سے رہا ہے یا پھر اختلاف کے بحر کی تہہ سے فنڈز، لین دین، روپے پیسے، اچھی اور بری وزارت، فلاں تبادلہ اور فلاں سڑک جیسے چھوٹے معاملات ہی اُچھل کر سامنے آتے رہے ہیں۔ راجا فاروق حیدر کئی بار سردار سکندر حیات کے گھر جا چکے ہیں اور نجانے کیوں وہ سکندر حیات خان کے سامنے اپنی ناکامی کا تاثر دور نہیں کرسکے۔ سکندر حیات خان کے اس طرز تکلم سے مسلم لیگ ن آزادکشمیر تاش کے پتوں کے گھر کے انجام کی طرف بڑھتی ہوئی معلوم ہورہی ہے اور اس معاملے پر فاروق حیدر کی لب کشائی اس انجام کے آگے اسپیڈ بریکر کا کام دے سکتی ہے۔

حصہ