اباجی‘ اماں جی اور بی بی کی سیاست

187

دُنیا کے نقشے پر پاکستان وہ واحد مملکت ہے کہ جس میں اقتدار ابا جی، اماں جی اور بی بی کی سیاست کے سائے میں پروان چڑھتا ہے۔ ابا جی (میاں شریف مرحوم) نے آرمی چیف (ریٹائرڈ) جنرل پرویز مشرف کو کھانے کی دعوت دے کر ’’جاتی امرا‘‘ بلایا اور پھر فرمایا کہ آپ میرے بیٹے میں اگر دونوں بیٹوں (میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف) سے کوئی شکایت ہو تو مجھے بتائیں۔ اس بات کا تذکرہ (ریٹائرڈ) جنرل پرویز مشرف کی سوانح عمری “IN THE LINE OF FIRE” کے صفحہ نمبر 112 اور 113 پر موجود ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اور میری اہلیہ نے میاں نواز شریف کی دعوت پر مل کر عمرے کی ادائیگی کی سعادت بھی حاصل کی۔ یہ واقعہ اگست 1999ء کا ہے، یہ ایک جھلک ہے ماضی کے سابق آرمی چیف اور ’’ہاؤس آف شریف‘‘ کے باہمی تعلقات کی۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر بعد میں یہ سلسلہ برقرار نہ رہ سکا کیوں کہ اقتدار بھی تو بڑا ظلم ہوا کرتا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا بعدازاں اماں جی کی ہدایت پر چند گھنٹے بعد اعلان واپس لے لیا، فاروق ستار نے اپنے بانی قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرکے اپنا اعلان واپس لے لیا تا کہ اُن کی اپنے بانی قائد بھائی کے ساتھ وابستگی برقرار رہے۔ اب یہ سلسلہ نہ جانے کہاں جا کر ختم ہوگا، کیا یہ سرزمین چند خاندانوں کی ذاتی جاگیر ہے؟ کسی جگہ ’’اباجی‘‘، کسی جگہ ’’اماں جی‘‘، کسی جگہ ’’بھائی‘‘ اور پھر کسی جگہ ’’زرداری‘‘ یہ سب کیا ہے؟ خاندانی اجارہ داریوں کی جھلک ذرا ملاحظہ فرمائیں۔
’’شریف خاندان‘‘، ’’زرداری خاندان‘‘ مفتی محمود کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن، خان عبدالولی خان کے صاحبزادے اسفند یار ولی، فاروق لغاری کا خاندان، جنرل ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب خان، جنرل ضیا الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق، خواجہ صفدر کے صاحبزادے خواجہ آصف، خواجہ رفیق کے صاحبزادے خواجہ سعد رفیق، حیات محمد خان شیرپاؤ کے بھائی آفتاب شیرپاؤ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی کسی کا بھائی، کسی کا سمدھی، کسی کی صاحبزادی، کسی کا داماد یہ سب چند خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو ہر آنے والی حکومت کا حصہ ہوتے ہیں، اب بتائیے کہ اس جمہوریت میں اصل عوام کی حکمرانی کہاں ہے؟ اس وقت پانچ فی صد جاگیردار، وڈیرے اور کاروباری لوگ اسمبلیوں کی پچانوے فی صد نشستوں پر قابض ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کا معاشرتی اور معاشی نظام ابھی تک جاگیرداری کے حوالے سے چل رہا ہے، ملک کا ہر قانون جمہور کے بجائے جاگیرداروں اور وڈیروں کے فائدے کے لیے بنتا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور بیماری کی مار جمہور کھاتے ہیں، ٹیکس دیتا ہے تو وہ درمیانہ طبقہ جو نوکری پیشہ ہے، وسطی پنجاب کے کچھ اضلاع اور سندھ کے کچھ علاقے چھوڑ کر باقی پورے پاکستان میں ابھی تک مخصوص خاندانوں اور جاگیرداروں ہی کا بھرپور تسلط برقرار ہے جو ملک پر حکمرانی کرتا ہے اب یہ حکمرانی اقتدار مافیا کی شکل اختیار کرچکی ہے، اس مافیا کا غلبہ اس قدر مضبوط ہے کہ قومی ادارے اپنی افادیت کھو بیٹھے ہیں کہ ان میں اس مافیا کے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پُراسرار وصیت کی بنا پر بی بی کی تمام سیاست اور پارٹی پر ان کے شوہر آصف علی زرداری قابض ہوگئے اور وہ مملکت پاکستان کے صدر بھی بنے۔
پاکستانی سیاست کا یہ وہ سلسلہ ہے جو شخصیت پرستی اور خاندانی اجارہ داری کو فروغ دیتا ہے، قومی خزانہ لوٹا جاتا رہا، بھتا خوری کی لعنت نے کراچی کا امن تباہ کردیا، روشنیوں کا شہر کراچی آج کچرا کنڈی بنا ہوا ہے۔ جنرل ضیا الحق نے ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی، میاں نواز شریف کو سیاست میں لائے اور (ن) لیگ پروان چڑھی، اباجی کے احکامات پر صدر مملکت اور اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں تک ہوتی رہی ہیں، لندن میں بانی قائد (بھائی) کے ہاں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے حاضری دینے کو ضروری سمجھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ کراچی کا امن اسی ’’بھائی‘‘ کی وجہ سے برباد ہوا اور یہ بھی جانتے ہوئے کہ بھارتی ’’را‘‘ اس ’’بھائی‘‘ کی بھرپور پشت پناہی کرتی ہے۔ رحمن ملک اور واجد شمس الحسن مسلسل اس غدار وطن سے رابطوں میں رہے، اس کے علاوہ لندن میں امریکا اور برطانیہ کی معاونت سے جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق وفاقی حکومت کے لیے پہلی باری آصف علی زرداری کی ہوگی اور پنجاب میں میاں نواز شریف اور سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہوگی، یہ حکومتیں اپنے پانچ سال مکمل کرلیں گی تو پھر نئے قومی انتخابات کرادیے جائیں گے جس کے نتیجے میں دوسری باری وفاقی حکومت میں میاں نواز شریف کی ہوگی۔ دیگر صوبوں میں وہی پرانی شرائط کے تحت حکومتیں بنائی جائیں گی۔ یہ تمام کھیل گزشتہ دو حکومتوں کے ادوار میں ہوتا چلا آرہا ہے یعنی ’’ہاؤس آف شریف‘‘ اور ’’ہاؤس آف زرداری‘‘ دونوں مل کر حکومت بھی کررہے ہیں اور ساتھ ساتھ اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ قومی خزانہ ان دونوں حکومتوں کے ادوار میں لوٹا گیا ہے، اس کی مثال پوری پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
من پسند، منظور نظر بیوروکریٹس اپنے قدم جمائے بیٹھے ہیں جو کرپشن کے تمام شواہد غائب کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اب بات چل رہی ہے نئے قومی انتخابات کی، قومی انتخابات قبل ازوقت ہوں یا اپنے مقررہ وقت پر، انتخابات ہر قیمت پر ہونے چاہئیں لیکن اب پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر جب تک احتسابی عمل پورا نہیں ہوتا اور پھر قومی خزانہ لوٹنے والوں کو قرار واقعی سزائیں نہیں ہوتیں، لوٹی ہوئی قومی دولت واپس قوم کو لوٹائی نہیں جاتی اور موجودہ نظام میں انقلابی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، قومی انتخابات سے کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آنے والی اور نہ ہی کوئی نئی قیادت ہی اُبھر کر سامنے آئے گی پھر یہی لوگ جو ’’اباجی‘‘، ’’اماں جی‘‘ اور ’’بی بی‘‘ کی سیاست کرتے ہیں ایک بار پھر مک مکا کرکے حکومت کا حصہ بن جائیں گے، اب یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ پاکستان میں اگر عوامی جمہوریت کو فروغ دینا ہے تو پھر چند خاندانوں کی اجارہ داری بھی ختم کرنی ہوگی اور لوٹ مار کا نظام بھی ختم کرنا ہوگا اس مقصد کے لیے احتسابی عمل ہر حالت میں مکمل ہونا چاہیے اسی میں قومی مفاد ہے اور اسی میں عوامی فلاح کی راہیں کھلیں گی۔

حصہ