سعودی عرب میں آزاد ہوں‘ سعد حریری

54
ریاض: لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دے رہے ہیں
ریاض: لبنان کے مستعفی وزیراعظم سعد حریری ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دے رہے ہیں

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والے لبنانی وزیر اعظم سعد حریری نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں آزاد ہیں اور جلد ہی وطن واپس لوٹ جائیں گے۔ حریری گزشتہ ہفتے مبینہ سیکورٹی خدشات کی بنا پر مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ حریری نے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے کہ انہوں نے سعودی دباؤ میں استعفیٰ دیا۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے الزام لگایا تھا کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سعد حریری نے کہا ہے کہ ایسی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ انہیں سعودی حکومت نے نظر بند کر رکھا ہے۔ حریری کے مطابق وہ جلد اپنے وطن لبنان واپس جائیں گے۔ سعد حریری نے یہ انٹریو اپنی سیاسی جماعت مستقبل پارٹ یسے منسلک ٹی وی چینل کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک انٹرویو میں دیا۔ اسی انٹرویو کے دوران ہی حریری نے اپنی لبنان واپسی کا اعلان بھی کیا۔ حریری کا کہنا تھا کہ میں یہاں آزاد ہوں۔ اگر میں کل لبنان جانا چاہوں تو جا سکتا ہوں۔ حریری کا کہنا تھا کہ وہ ایک دو روز میں بیروت پہنچیں گے۔ 47 سالہ حریری نے 4 نومبر کو ریاض سے ٹیلی وژن پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اپنے اس نشریاتی خطاب میں انہوں نے ایران اور اس کی اتحادی سمجھی جانے والی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ تاہم لبنانی صدر مشال عون نے با ضابطہ طور پر ابھی تک حریری کا استعفیٰ منظور نہیں کیا ہے۔ عون کا موقف ہے کہ سعد حریری کی نقل وحرکت محدود کر دی گئی ہے اور ان کے لبنان آنے پر پابندی ہے۔ ہفتے کے روز لبنانی صدر کے دفتر کی طرف سے بیان جاری کیا گیا تھا جس میں سعودی حکومت سے حریری کے لبنان واپس نہ آنے پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔ جب کہ جمعہ کے روز حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے بھی کہا تھا کہ حریری کو سعودی عرب میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے لبنان آنے پر پابندی ہے۔ سعد حریری نے گزشتہ ہفتے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے علاوہ سعودی حکام اور سفارت کاروں سے ملاقاتیں کی ہیں، جب کہ اس دوران وہ ایک بار ابو ظبی بھی جا چکے ہیں۔ حالیہ انٹرویو کے دوران حریری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ خود تحریر کیا تھا اور وہ اسے لبنان ہی میں جمع کرانا چاہتے تھے، لیکن وہاں خطرہ تھا۔ حریری کا کہنا تھا کہ اگر علاقائی تنازعات میں مداخلت بند کر دی جائے تو وہ اپنا استعفیٰ واپس لینے کو تیار ہیں۔ خیال رہے کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم اور سعد حریری کے والد رفیق حریری کو 2005ء میں ایک بم دھماکے کے ذریعے قتل کر دیا گیا تھا۔

حصہ