اسرائیلی فوج سیکڑوں مکان مسمار کرنے پر اترآئی

55
دمشق: شام کے شمالی صوبے حلب میں اتارب نامی شہر کا بازار بمباری کے باعث تباہ ہو گیا‘ چھوٹی تصاویر شہید ہونے والے بچوں اور شہریوں کی ہیں
دمشق: شام کے شمالی صوبے حلب میں اتارب نامی شہر کا بازار بمباری کے باعث تباہ ہو گیا‘ چھوٹی تصاویر شہید ہونے والے بچوں اور شہریوں کی ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت کے بعد فوج نے بھی فلسطینیوں کو بے گھر کرنا شروع کردیا ہے۔ قابض فوج نے300 فلسطینی باشندوں کو8 روز میں اپنے آبائی گھر خالی کرنے کا حکم دیا ہے، جب کہ املاک مسمار کرنے کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق غاصب اسرائیلی انتظامیہ کے بعد ظالم فوج نے مغربی کنارے میں سیکڑوں فلسطینی باشندوں کو 8 روز کے اندر اپنے مکانات خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی فوج انہدامی کارروائیاں خودانجام دے رہی ہے۔ 300 شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مکانات اور دیگر املاک چھوڑ کر فوری طور پر علاقے سے کوچ کرجائیں۔ اسرائیلی فوج ان مکانات کو غیرقانونی قرار دے رہی ہے، حالاں کہ ان کے مکین کئی صدیوں سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ قابض فوج نے عین حلوہ اور ام جمال نامی علاقوں میں 550 ایکڑ اراضی پر قبضے کا ارادہ کیا ہے۔ اس غاصبانہ کارروائی سے مسلمان ہی نہیں عیسائی باشندے بھی متاثر ہوں گے۔ دوسری جانب اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایک نیا امن فارمولہ تیار کررہے ہیں جسے امریکی نگرانی میں 2018ء میں نافذ العمل کیا جا سکتا ہے۔ عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان صدی کی ڈیل کے نام سے مشہور مجوزہ امریکی امن فارمولے پر کام جاری ہے۔ توقع ہے کہ 2018ء کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرنگرانی اس فارمولے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ عبرانی اخبار نے امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پائے جانے والے تنازعات اور حل طلب امور کے مختلف ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نئے امن فارمولے پر کام کررہی ہے۔ اس فارمولے کے تحت بیت المقدس کی مستقبل کی حیثیت اور یہودی کالونیوں کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امکان ہے کہ 2018ء کے ابتدائی مہینوں کے دوران صدی کی ڈیل کہلانے والا یہ فارمولہ عمل شکل میں لایا جائے گا۔ خیال رہے کہ امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے مختص امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے چند ماہ قبل اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے فلسطینی قیادت اور صہیونی ریاست کی حکومت کے ساتھ مستقبل کے امن عمل کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی تھی۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی زیرنگرانی امن فارمولے پر کام کرنے والی ٹیم میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی گرین بیلٹ، اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیویڈ فرید مین اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر ڈینا پاول شامل ہیں۔

حصہ