تمام جماعتیں نئی حلقہ بندیوں کیلیے قانون سازی پر متفق‘ مردم شماری ریکارڈ چیک کرنے کا مطالبہ تسلیم

89
اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد (صباح نیوز+آئی این پی ) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل میں نئی حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے متفقہ منظوری پر اتفاق ہوگیا ، تمام جماعتیں نئی حلقہ بندیوں کے لیے جلد قانون سازی کرنے پر متفق اور عام انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ،اپوزیشن کی بڑی جماعت کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے، ایک فیصدعبوری نتائج کی دوبارہ تصدیق ہوگی اورنظرثانی اعدادو شمار کو تمام صوبے تسلیم کرنے کے پابند ہوں گے۔ وزیراعظم کے ترجمان نے تصدیق کردی ہے کہ نئی مردم شماری کی شفافیت کو جانچنے اور خدشات دورکرنے کے لیے عالمی طریقہ کار اپنایا جا ئے گا ۔پیرکو سی سی آئی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثنا اﷲ زہری،وفاقی وزرا زاہد حامد،احسن اقبال، ریاض حسین پیرزادہ سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل میں پیپلز پارٹی نے مردم شماری کے بارے میں اپنے تحفظات پیش کیے، سندھ حکومت نے مردم شماری کے ریکارڈ کی دوبارہ تصدیق کا مطالبہ کیا ۔ اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عام انتخابات وقت پرہونے چاہییں ،اس حوالے سے صوبے وفاق کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کریں گے، تمام جماعتیں نئی حلقہ بندیوں کے لیے جلد آئینی ترمیم کی منظوری پر متفق ہو گئی ہیں ۔ مردم شماری کی تصدیق کا فارمولا تمام صوبوں پر لاگو ہو گا۔اجلاس میں مردم شماری کے ایک فیصد نتائج کی تیسرے فریق سے جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مقیم غیر ملکیوں کا ڈیٹا جاری کرنے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا جبکہ ادارہ شماریات نے کہا کہ غیر ملکیوں کی درست تعداد مردم شماری نتائج سے پہلے نہیں بتا سکتے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے سی سی آئی کو نئی حلقہ بندیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانا مشکل ہو گا ،قانونی اور آئینی معاملا ت رکاوٹ بن سکتے ہیں۔وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبائی بنیاد پر حلقہ بندیوں کا کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تمام صوبوں نے مل کر وفاق کی مدد کرتے ہوئے آئینی بحران سے نکال لیا ہے، انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کی شفافیت کو جانچنے اور خدشات دورکرنے کے لیے عالمی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ ایک فیصد بلاکس کا دوبارہ ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا اوریہ کام3 ماہ میں مکمل ہو گا،یہ کام شماریات ڈویژن کی تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا کام آئینی ترمیم کے فوری بعد شروع ہو گاجبکہ حلقوں میں اضافے یا انہیں قائم رکھنے کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ اجلاس میں چاروں وزیر اعلیٰ نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ آج ون پوائنٹ ایجنڈا تھا جس میں عام انتخابات اور جمہوریت کو استحکام دینا تھا ،اس میں تمام صوبوں نے بڑھ چڑھ کر اپنی رائے دی۔رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق نے مردم شماری کا ڈیٹا جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، مردم شماری کا ایک فیصد تھرڈ پارٹی سے چیک کرانے کا حق دیا گیا ہے، 100بلاکس میں سے کسی ایک کی مردم شماری چیک کرائی جا سکتی ہے، مردم شماری کے اعداد و شمار میں فرق آیا تو وفاق ازالہ کرے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے کڑوی گولی نگل رہے ہیں ۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ الیکشن میں تاخیر نہیں ہونے دیں گے ،ہم مردم شماری کے نتائج کچھ شرائط پر قبول کریں گے، پہلی شرط ایک فیصد بلاکس کی تھرڈ پارٹی سے تصدیق کرائی جائے گی، دوسری شرط یہ ہو گی کہ مردم شماری سے متعلق عوامی خدشات دور کیے جائیں گے اورتیسری شرط یہ ہے کہ ادارہ شماریات مردم شماری کے بلاکس کا ڈیٹا جلد شائع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی شرائط مان لی ہیں ۔

حصہ