ظالم وڈیروں و سرمایہ داروں نے جمہوریت کو یرغمال اور اپنی ریاستیں بنارکھی ہیں‘ سراج الحق

96

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عدالت عظمیٰ پاناما لیکس کے دیگر 436 کرداروں کے احتساب کے لیے جماعت اسلامی کی دائر کردہ پٹیشن کی جلد سماعت کرے۔ کرپشن فری پاکستان کے لیے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ پاناما اور پیراڈائز لیکس کے کرداروں اوربینکوں سے اربوں کے قرضے معاف کرانے والوں کو پکڑا جائے اور سب کا کڑا احتساب کیا جائے ۔ عدلیہ کو اپنا وقار اور اعتبار برقرار رکھنے کے لیے بھی لٹیروں کے خلاف سخت اقدام اور بلاتفریق سب کا احتساب کرنا ہوگا ۔ ملک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت اور سیاست پر ظالم وڈیروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہے۔جمہوریت کو ان لوگوں نے یرغمال بنارکھاہے جنہوں نے ملک کے اندر اپنی الگ ریاستیں بنا رکھی ہیں ۔ کسان اور مزدور دن بھر خون پسینہ بہانے کے باوجود بھوکے رہتے ہیں اور قومی دولت لوٹنے والوں کے گھوڑے اور کتے بھی دودھ پیتے ہیں ۔ زراعت پر حکومت کا فوکس ہے نہ عالمی منڈیوں تک رسائی کی کوئی منصوبہ بندی ہے ۔ بھارت ہمارے دریاؤں کا پانی چوری کر کے پاکستان کو بنجر بنانے کے لیے آبی دہشت گردی کر رہاہے جبکہ ہمارے حکمران خواب غفلت کے مزے لے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ارسلان خان خاکوانی کی قیادت میں منصورہ میں کسانوں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوم ابھی تک انگریز کے پروردہ ان جاگیرداروں اور وڈیروں کے چنگل سے آزاد نہیں ہوئی جنہوں نے انگریز سے وفاداری اور قوم سے غداری کے بدلے جاگیریں حاصل کیں ۔ قیام پاکستان کے بعد جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے اس کلب نے ملکی اقتدارپر قبضہ کر لیا اور پھر قومی اداروں کو یرغمال بنا کر ان اداروں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھاتے رہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی جاگیروں اور فیکٹریوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا جبکہ عوام کو روٹی، کپڑے اور مکان جیسے وعدوں پر ٹرخایا جاتا رہا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے 5 عشروں تک عام آدمی کا استحصال کیا ۔ حکمرانوں نے اپنے لیے قارون کے خزانے جمع کیے اور محلات بناتے رہے مگر عوام کو2 وقت کی روٹی ، تن ڈھانپنے کے کپڑے اور سر چھپانے کے لیے چھت بھی میسر نہیں ۔ شوگر ملز، لینڈ اور کرپشن مافیا خود کو ہر قسم کے احتساب سے بالاتر سمجھتی ہے ۔ پاکستان میں اقتدار میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ سونے کی کان مل گئی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے پاس شہروں میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔ اگر دیہات کو بجلی ، گیس ، پانی اور سڑکیں دے دی جائیں تو لوگ شہروں سے دیہات کی طرف رخ کرنا شروع کر دیں ۔ لوگ علاج معالجے ، روزگار اور تعلیم کے لیے شہروں میں آ کر بستے ہیں مگر انہیں یہ سہولتیں شہروں میں بھی میسر نہیں ہیں ۔

حصہ